خرید بک لینک

عدل ایک الہی صفت ہے ۔جو تمام الہی صفات کے درمیان اپنی الگ خصوصیت کی وجہ سے اصول دین میں شامل ہے ۔یعنی دین مبین اسلام میں توحید کے بعد عدل کو قرار دینا خود اس کی اہمیت کی گواہی ہے ۔

قرآن مجید نے اس صفت کو متعدد مقامات پر بیان کیا ہے ۔ یہاں تک اللہ نے اپنی مخلوق کی ھدایت کے لیے بھیجے گئے انبیاء کا مقصدبعثت ہی عدل و عدالت کے قیام کو قرار دیا ۔ اور ارشاد ہے : لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَ أَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَ الْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ "

ترجمه: ''ہم نے یقینا اپنے پیغمبروں کو وا ضح و روشن معجزے دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ ساتھ کتاب اور (انصاف ) کی ترازو نازل کی تا کہ لوگ انصاف پر قائم رہیں۔'' سورہ الحدید آیت نمبر 25

شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَاهَ إِلَّا هُوَ وَ الْمَلَئكَةُ وَ أُوْلُواْ الْعِلْمِ قَائمَا بِالْقِسْطِ لَا إِلَاهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيم''خدا نے خود اس بات کی شہادت دی ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور تمام فرشتوں اور صاحبان علم نے جو عدل پر قائم ہیں۔'' سورہ آلِ عمران آیت نمبر 18

1-عدل کی تعریف

امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں عدل کی تعریف بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ''کسی شے کو اپنے اصل مقام پر رکھنا عدل ہے ۔یعنی ظلم اس کے بر عکس ہے ۔

2- عدالت عقل کی نظر میں

عقل کی قوت سے که جس کو خدا نے عنایت کی ہے ، ہم اچھائی اور برائی میں تمیز کرتے ہیں اور اسی عقل کے حصار پر اس باتوں کا فیصلہ کرتے ہیں۔ عدالت اچھی صفت ہے اور اس کی ضد ظلم بری چیز۔

انسان جب ظلم کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کے پس منظر اور سبب میں اس کی جہالت ، خوف اور نظر یہ ضرورتاً شامل ہوتا ہے۔جبکہ خداوند قدوس ان نقائص سے مبرا اور پاک ہے ۔جہاں جہالت ، خوف اور کمی کا تصور بھی نهیں کیا جا سکتا ۔اس لیے خدا وند کریم کی ذات عادل ہے جو کسی پر ظلم نہیں کرتی ۔

3- قرآن کی نظر میں خدا کی عدالت

ارشاد رب العزت ہوتا ہے: وَ نَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيًْا وَ إِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَ كَفَى بِنَا حَاسِبِين''اور قیامت کے دن ہم انصاف کی ترازو کھڑی کریں گے اور پھر کسی پر ظلم نہ کیا جائے گا ۔اور اگر رای کے دانہ کے برابر بھی (کسی ) کا عمل ہو گا تو ہم اسے لا حاضر کریں گے ۔'' سورة انبیاء آیت 47

اور پھر فرمایا : "وَ أَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيد''اوربے شک !خدا بندوں پر ظلم نہیں کرتا ۔سورہ حج آیت ١٠

اور پھر فرمایا :" مَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَىَّ وَ مَا أَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيد ''ترجمه :میرے ہاں بات بدلا نہیں کرتی اور نہ ہی بندوں پر (ذرہ برابر ) ظلم کرنے والا ہوں۔'' سورہ ق آیت 29

اور پھر فرمایا :" إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَ إِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَ يُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا''خدا تو ہرگز ذرہ برابرظلم نہیں کرتا ، بلکہ اگر کوئی نیکی ہو تو اسے دوگنا کر دیتا ہے اور اپنی طرف سے بڑا ثواب عطا کرتا ہے''. سورہ نساء آیت 40

4- عدل کے بارے مسلمانوں میں اختلاف

عدل الٰھی کے بارے میں مسلمانوں میں دو طبقات پائے جاتے ہیں۔

الف) اشعری مذهب:

جو اھل سنّت کی ایک جماعت ہے جو ابو الحسن اشعری کے پیرو کار ہیں وہ افعال الہی میں عدل کا انکا ر کرتے ہیں ۔ان کا نظریہ یہ ہے کہ خدا کا ہر کام عدل ہے کیونکہ وہ ہر کام پر قادر ہے ۔پس اگر گناہ کاروں کو جنت میں اور نیک لوگوں کو جہنم میں بھیج دے تو خدا اس بات پر قادر ہے۔

ب) عدلیه

عدل الھی کے بارے میں معتزلہ (اهل سنّت کا دوسراگروه) اور شیعہ اثبات کے قائل ہیں۔انھوں نے اسے دین کی اصل قرار دیا ہے ۔ ان کا عقیدہ ہے کہ نظام تکوینی و شریعی میں افعال(یعنی خدا جوکام انجام دیتا هے)خدا مبنی بر عدالت ہیں ۔چونکہ عقل و منطق کی نگاہ میں عدل ایک پسندیدہ اور ظلم و ستم ذاتاََ نا پسندیدہ افعال ہیں ۔ اس لیے خداوند کریم بھی ایسے فعل کو کبھی بھی انجام نہیں دے گا۔جو عقلی لحاظ سے مذموم بلکہ ممنوع ہوں عدل کو اصول دین میں شامل کرنے کی وجہ اس کی ہمہ گیر اہمیت ہے ۔

نظام عدل و عدالت ، انسانی زندگی میں انفرادی اور اجتماعی طور پر نظم و تنظیم کا سبب ہے ۔اور کائنات کے سارے نظام پر غورو فکر کے ساتھ نظر ڈالیں تو اسی عدل کے قانون کے مطابق ہر چیز اپنے تعیین شدہ دائرہ کار میں مصروف عمل ہے ۔

5- آزمایش عدالت سے منافات نھیں

عدالت الہیہ کے بارے میں کم علمی کی وجہ سے بعض اعتراضات کیے جاتے ہیں۔کہ اگر خدا عادل ہے تو پھر زندگی میں امتیازات اور تفاو ت کیوں ہے ؟ انسان پر دکھ ،مصیبت اور آفات کیوں نازل ہوتے ہیں؟ نا قص الخلقت بچے کیوں پیدا ہوتے ہیں ؟ اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ ہمارے اپنے اعمال و افعال اس بات کا باعث بنتے ہیں ورنہ خدا کبھی کسی پر ظلم نہیں کرتا ۔
خدا نے فرمایا :" فَمَا كاَنَ اللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَ لَاكِن كاَنُواْ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُون '' پس خدا ان پر کوئی ظلم نہیں کرتا مگر وہ لوگ (کفر و سر کشی سے ) اپنے اوپر ظلم کرتے تھے '' سورہ روم کی آیت نمبر ٩

الف) آزمایش حصول مقام کےلیے ھو

اس کے علاوہ یہ عالم اپنی تغییر پذیری کی وجہ سے ترقی و کمال کی منازل طے کر رہا ہے ، اگر سب ایک ہی معیار پر ہوں تو معاشرہ جمود کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔پس جو زیادہ محنت کرتا جا ئے گا ۔ وہ اعلیٰ مقام حاصل کر ےگا ۔ ارشاد ہے کہ:" إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيرُِّ مَا بِقَوْمٍ حَتىَ يُغَيرُِّواْ مَا بِأَنفُسِهِمْ '' جب تک لوگ خود آپ اپنے نفسی حالت میں تغیر نہ ڈالیں ، خدا ہر گز تغیر ڈالا نہیں کرتا ۔'' سورہ رعد آیت ١١

ب) آزمایش کا سبب خود انسان هے

انسان کی ترقی میں آنے والے مصائب در اصل اسے پختہ بناتے ہیں ۔بعض اوقات خدا کی طرف سے آزمایش اور امتحان ہوتا ہے ۔ جس سے بندے کو آزمایا جاتا ہے ۔خدا کسی مخلوق کا حق پائمال نہیں کرتا اور دنیا کے حکیمانہ نظام کے تحت ہر مخلوق پر مہربانی فرماتا ہے ۔بیشتر پیش آنے والی سختیوں کا انسان خود ذمہ دار ہوتا ہے ، ارشاد رب العزت ہے :" وَ مَا أَصَبَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكمُ ْ وَ يَعْفُواْ عَن كَثِير''جو سختی اور مصیبت تم کو پہنچتی ہے وہ ان کاموں کی وجہ سے ہے۔ جو تم نے اپنے ہاتھوں سے کیے ہیں ۔تم خود ہی مصیبتوں کی پیدایش کا سبب ہو ۔'' سورہ شوریٰ آیت 30

ارشاد ہے کہ :" وَ إِذَا أَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُواْ بهَِا وَ إِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةُ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ إِذَا هُمْ يَقْنَطُون'' ترجمه:اگر لوگوں کو اپنے غلط چلن اور اعمال کی وجہ سے کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ ہماری رحمت سے نا امید ہو جاتے ہیں۔'' سورہ روم آیت 36

ج) آزمایش قرب الھی کے لیے ھو

بعض اوقات خدا کی طرف سے آزمایش ہوتی ہے ، جو قرب الہی کے حصول کا ذریعہ ہوا کرتی ہے ۔ ارشاد رب العزت ہے:"وَ لَنَبْلُوَنَّكُم بِشىَ ْءٍ مِّنَ الخَْوْفِ وَ الْجُوعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَ الْأَنفُسِ وَ الثَّمَرَاتِ وَ بَشِّرِ الصَّابرِِين". ہم انھیں خوف اور بھوک ، مال، جان ،اور پھلوں کی کمی سے ضرور آزمائیں گے۔'' اور اے رسول صلّ الله علیه و آله!صبر کرنے والوں کو خوش خبری دے دو ۔'' سورہ بقرہ آیت 155

6-نظام عدالت الھی پوری کاینات کو احاطہ کیے ہوے ھے

خداوند کریم کا عادلانہ نظام پوری کائنات کا احاطہ کیے ہوئے ہے ،کائنات کا ذرہ ذرہ عدل الھی کی گواہی دے رہا ہے ۔ ایک ذرہ سے لے کر پیچیدہ نظام تک تمام نظام ایک مقرر شدہ نظم و تنظیم سے چل رہے ہیں۔حضور نبی کریم صلّ الله علیه و آله نے اس عدالت عمومی اور توازن کو مختصر جملے میں یوں فرمایا کہ ''یہ عدل ہی ہے کہ جو آسمان اور زمین کو اپنی جگہ پر رکے ہوئے ہیں۔'' عدالت اجتماعی کی اہمیت عملی زندگی میں بہت زیادہ ہے ۔ اگر معاشرہ عدالت کی حدود سے تجاوز کر جائے تو وہ انتشار کا شکار ہو جا ئے گا ۔عدم عدالت ظلم و ستم کا محاذ کھول دے گا ْ۔جہاں امن و امان نا پدید ہو جائے گا ۔ کسی کے حقوق محفو ظ نہ رہیں گے اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس جیسا قانون لاگو ہو جائے گا۔ عدالت اجتماعی کی اہمیت کے پیش نظر اسلام نے اس راستے سے انحراف کرنے والے اور ظلم و ستم کرنے والے گروہ کو روکنے کا حکم دیا ہے ۔اگرچہ ان سے جنگ ہی کیوں نہ کرنی پڑے ۔:"وَ إِن طَائفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُواْ فَأَصْلِحُواْ بَيْنهَُمَا فَإِن بَغَتْ إِحْدَئهُمَا عَلىَ الْأُخْرَى فَقَاتِلُواْ الَّتىِ تَبْغِى حَتىَ تَفِى ءَ إِلىَ أَمْرِ اللَّهِ فَإِن فَاءَتْ فَأَصْلِحُواْ بَيْنهَُمَا بِالْعَدْلِ وَ أَقْسِطُواْ إِنَّ اللَّهَ يحُِبُّ الْمُقْسِطِين'' اگر مومنین میں دو فرقے آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کرا دو ، پھر جوان میں سے دوسرے پر زیادتی کرے تم (بھی )اس سے لڑو ۔یہاں تک وہ خدا کے حکم کی طرح رجوع کرے ۔ پھر فریقین میں مساوات کے ساتھ صلح کرادو اور انصاف سے کام لو۔ بے شک ! خدا انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔''سورة الحجرات، آیت 9

امام عادل حضرت علی علیہ السلام کے پاس ایک دن ابن عباس آئے تو دیکھا کہ آپ اپنی پرانی جوتیوں میں پیوند لگا رہے ہیں۔ انھوں نے ابن عباس سے پوچھا کہ تمہاری نظر میں ان کی قیمت کیا ہو گی؟ جواب دیا ۔ کوئی نہیں ۔مولا نے فرمایا :''اس پرانی جوتی کی قیمت میری نظر میں تمہاری اس حکومت سے زیادہ ہے۔

جب مکہ کی وادیوں سے اسلام کا سورج طلوع ہوا تو اس جہالت بھرے معاشرے میں عدالت کا فقدان تھا ۔اسی وجہ سے وہ پستی کا شکار تھے۔ مظلومین اور ستضعفین ظالمین کے ظلم و ستم کی چکی میں پس رہے تھے۔پورے معاشرے میں ظلم و بے انصافی کا راج تھا ۔صدیوں پر محیط جہالت و گمراہی کی چادر میں لپٹاہوامعاشرہ اسلامی نظام عدالت کو فوری طور پر قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھا۔

معلم اخلاق اور رھبر عدل و عدالت حضور نبی کریم صلّ الله علیه و آله نے عملی طور پر عدالتی نظام کی بنیاد رکھی۔ تو لوگ اس کے فیوض و برکات سے آگاہ ہوئے۔ درسگاہ نبوت سے پرورش پانے والے خانوادہ اہل بیت نے بھی اس معاشرہ میں عدالت کے قیام کے لیے جدو جہد جاری رکھی ۔ان میں سب سے نمایاں کردارحضرت علی ابن ابی طالب کا نظر آتا ہے ۔جنہوں نے اپنی حکومت کے ذریعے عدالت کے نفاذ کے لیے عملی کوشش کی۔

امیر المومنین کے کلام ، نہج البلاغہ کو علامہ سید رضی نے مرتب کیا ۔جس موضوع پر سب سے زیادہ گفتگو ہوئی ۔وہ عدالت اور حکومت ہے ۔جو شخص نہج البلاغہ کا باقاعدہ مطالعہ کرتا ہے وہ اس بارے میں حضرت علی کے نظریات سے بخوبی آگاہ ہو سکتا ہے حضرت علی جو ایک طرف اس دنیا کو دوسری مادی اشیاء کی طرح سور کی ہڈی سے بھی بے وقعت خیال کرتے ہیں جو کسی جذامی کے ہاتھ میں ہو ،لیکن اسی حکومت میں قیام عدل اور حق کے حصول کو مقدس امانت خیال کرتے ہوئے تلوار کھینچنے سے بھی دریغ نہیں کرتے ۔نہج البلاغہ کے خطبہ نمبر 15میں امام علی فرماتے ہیں۔:"وَاللهِ لَوْ وَجَدْتُهُ قَدْ تُزُوِّجَ بِهِ النِّسَاءُ، وَمُلِکَ بِهِ الْإِمَاءُ، لَرَدَدْتُهُ; فَإِنَّ في الْعَدْلِ سَعَةً. وَمَنْ ضَاقَ عَلَيْهِ الْعَدْلُ، فَالْجَوْرُ عَلَيْهِ أَضيَقُ!''بے شک عدل میں کافی گنجایش اور وسعت ہے ،عدل ہر ایک کا راستہ ہے ۔پس اگر کوئی عدل کو اپنے لیے تنگی محسوس کرے تو جان لے کہ ظلم کا نتیجہ اس سے کئی گنا زیادہ تنگ ہو گا۔'' نامور محقق اور دانشور شہید مرتضیٰ مطہری ''اسرار نہج البلاغہ''میں لکھتے ہیں ۔''عدل ان مسائل میں ایک ہے جن کو اسلام کی بدولت حیات اور غیر معمولی قدر و قیمت حاصل ہوئی ۔اسلام نے فقط قیام ِ عدل کی سفارش ہی نہیں کی اور نہ ہی محض اس کے اجراء پر قناعت کی بلکہ اس کے مقام کو بھی بلند قرار دیا ۔''

کیونکہ عدالت سے مراد یہ ہے کہ فطری اور طبیعی استحقاق کو مد نظر رکھا جائے ۔اور ہر شخص کو اس کی محنت و استعداد کے مطابق عطا کیا جائے ۔عدل سے مراد دوسروں کے حقوق کا لحاظ رکھنا اور ان سے تجاوز نہ کرنا ہے۔ حضرت علی کی نظر میں وہ اصول جو معاشرے کے توازن کو قائم اور سب کو راضی رکھ سکتا ہے ، پورے معاشرے کو سلامتی اور اس کی روح کو سکون دیتا ہے وہ عدل ہے۔

عدل وسیع راستہ ہے جو سب کو ساتھ ملا کر کسی مشکل کے بغیر آسانی کے ساتھ منزل تک پہنچاتا ہے ۔جبکہ اس کے برعکس ظلم و ستم اور نا انصافی کا کٹھن اور دشوار راستہ ناکافی و نا مرادی کا راستہ ہے ۔معاشرے میں عدالت کا قیام اس معاشرے کے افراد کے لیے باعث سلامتی ، راحت و سکون ہے ۔اور جہاں عدالت کا فقدان اور نا انصافی کا دور دورہ ہو گا وہاں زندگی کے تمام معاملات میں انتظامی اور نئے مسائل پیدا ہوتے رہیں گے ۔ جس کے نتیجے میں معاشرہ تنزلی کی طرف سفر کرے گا۔

دنیا کے وہ خطے جہاں عملی طور پر عدالت کا نفاذ ہے ، وہاں کے عوام آسودہ حال ہیں ۔مگر آج کی طاقتور حکومتیں عدالت کا بری طرح سے استحصال کر رہی ہیں ، اور چھوٹے ممالک پر اپنی اجارہ داری قائم کیے ہوئے ہیں ۔بڑی طاقتوں کے اپنے مفادات ہوتے ہیں ، جن کے تحفظ کے لیے وہ کھلم کھلا اور دیدہ دلیری کے ساتھ عدل و انصاف کی دھجیاں بکھیرتے ہیں ، اور ستم بالائے ستم یہ کہ اپنے آپ کو عدل و انصاف کے چیمپیئن بھی کہلواتے ہیں۔

یہ دنیا ظلم و ستم سے بھر چکی ہے ۔مظلوم کا کوئی پُرسان حال نہیں ہے ۔ظالم طاقتور ہوتا جا رہا ہے اور ظلم کے باوجود معاشرے میں محترم تصور کیا جا تا ہے ۔یہ آخری زمانے کی نشانی ہے ۔حدیث پیغمبرۖ ہے کہ میرا بارہواں بیٹا ظہور کرے گا جو دنیا کو عدل و انصاف سے ایسے بھر دے گا جس طرح یہ ظلم و ستم سے بھری ہو گی ۔حضرت حجت بن حسن عسکری کا ظہور عدالت کے قیام کا مقدمہ ہو گا اور اس خواب کی تعبیر مل جائے گی جس کے حصول کے لیے امام المتقین حضرت علی نے کو شش کی تھی ۔یہی زمانہ آئیڈیل ہو گا جو خداوند کریم کے نظام عدل کی روشنی میں ترتیب پائے گا ۔

نوٹ:اس کتابچه کو شیعه امامیه کے مختصر عقاید سے اخذ کیا ھے ۔

برچسبها: عدل و عدالت, عدل کی تعریف, عدالت عقل کی نظر میں, قرآن کی نظر میں خدا کی عدالت, آزمایش قرب الھی

برچسب: نویسنده: باران کاشانی تاريخ: شنبه 7 مرداد 1396 ساعت: 22:28

صفحه بندی