مقدّمه
عصر حاضرمیں ہم ایک عظیم تبدیلی کے گواہ ہیں، ایسی تبدیلی جو دنیا کے سب سے بڑے آسمانی دین ،اسلام کے سبب سے وجود میں آئی ہے۔دنیا کے مسلمان، خواب غفلت سے بیدارہوئے ہیں اور اپنی اصل کی طرف لوٹ رہے ہیں، اوراپنی مشکلات کے حل ،جوانھیں کہیں اور نظر نہیں آئی، اسلامی تعلیمات اور اس کے اصول وفروع میں تلاش کررہے ہیں۔
اس وقت یہ جاننا اہم ہے کہ اس عظیم تبدیلی کی وجہ کیاہے؟
اور اسلام کے پیغام میں کیا تازگی ہے؟
1- عصر حاضر کے ایسے حساس ماحول میں ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اسلام حقیقی کو بغیر کسی بیچیدگی کے واضح اور آسان لفظوں میں لوگوں کے سامنے پیش کریں اور اسلام اورمذاہب اسلامی کے سلسلے میں جو ان کی تشنگی ہے اسے دور کریں ،اس لیے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم خاموش رہیں اور دوسرے ہماری طرف سے باتیں اور فیصلہ کریں۔
۲۔ اس بات سے انکار نہیں ہے کہ اسلام میں بھی دوسرے ادیان کی طرح بہت سے مختلف مذاہب پائے جاتے ہیں۔ جن میں سے ہر ایک کے اپنے عقیدتی اور عملی خصوصیات ہیں ۔ البتہ یہ اختلافات اس حد تک نہیں هونا چاھیے کہ ایک دوسرے کی راہ میں مانع بنسے۔ بلکہ وہ سب مل کر اتحاد و ہمدلی کے ساتھ دنیا کے طوفانوں کا مقابلہ کرنا چاھیے اور اپنے مشترک دشمنوں کی سازشوں کو عملی ہونے سے روکنا چاھیے۔
یقینا اس اتحاد ، اتفاق ، ہم فکری اورہم دلی کو مضبوط کرنے کے لیے ہمیں اصول و ضوابط کی رعایت کی ضرورت ہوگی، جس میں سب سے اہم یہ ہے کہ اسلامی فرقے ایک دوسرے کی معرفت حاصل کریں،
ان کی خصوصیات اور امتیازات کو پہچانیں، اس لئے کہ صرف اس پہچان کے ذریعے ہی وہ ایک دوسرے کے سوء ظن سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
۳۔ مندرجہ بالا دو نکتوں کے پیش نظر اسلامی عقاید اور اس کے اصول و فروع کو شیعہ مذہب کے امتیازات کے ساتھ، بیان کریں جس میں درج ذیل خصوصیات پائی جاتی ہوں:
۱۔ مختصر و مفید تمام مطالب کا احاطہ ہوسکے ۔
۲۔ بحثیں واضح ، روشن اور آسان بیان ہوں۔
۳۔ مقصد صرف عقاید بیان کرناہے، ان کی دلیلیں نہیں، ہاں حساس مواقع پر بحث اور ضرورت کے مطابق کتاب و سنت اورعقل سے دلیلیں پیش کی گئی ہیں۔
۵۔ تمام مذاہب کے سلسلے میں شایستگی قلم اور ادب و احترام کا لحاظ رکھا جائے۔
امید ہے کہ جس مقصد کے تحت یہ کتابچه تالیف کی گئی ہے۔ ہم اس میں کامیاب ہوں اور یہ کتابچه ہمارے لے ذخیرہ آخرت بن جائے۔ آخر میں بارگاہ احدیت میں دعا ہے:
ربنا اننا سمعنا منادیا ینادی الایمان ان آمنوا بربکم فآمنا ربنا فاغفرلنا ذنوبنا و کفر عنا سیئاتنا و توفنا مع الابرار۔ سورہ آل عمران آیہ ۱۹۳
بخش اول۔ ذات خدا اور اس کی وحدانیّت
خداوند عالم کی ذات اقدس کو انکی صفات ذاتی کے ڈریعے پہچانا جاتاھے
۱۔ وجود قادرمطلق
ہمارا عقیدہ ہے کہ خداوند عالم تمام عالمین کا خالق ہے، اور اس کی عظمت، علم و قدرت کے آثار ،تمام مخلوقات و موجودات جہان میں آشکار و ہویدا ہیں، ہیاں تک کہ ہمارے باطن میں، تمام جانداروں اور گیاہوں میں، آسمان کے ستاروں اور تمام عوالم بلکہ تمام ذروں میں ظاہر ہیں۔
قرآن مجید میں ارشاد ہواہے:و فی الارض آیات للموقنین ۔و فی انفسکم افلا تبصرون ۔
ترجمہ: اور زمین میں یقین کرنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں پائی جاتی ہیں، اور خود تمہارے اندر بھی، کیا تم نہیں دیکھ رہے ہو۔ سورہ ذاریات آیہ ۲۰،۲۱
ترجمہ: بے شک زمین و آسمان کی خلقت لیل ونھار کی آمد ورفت میں صاحبان عقل کے لیے قدرت خدا کی نشانیاں ہیں۔ جو لوگ اٹھتے بیٹھتے، لیٹتے خدا کو یاد کرتے ہیںاور آسمان و زمین کی تخلیق میں غور د فکر کرتے ہیںکہ خدایا تونے یہ سب بےکار پیدا نہیں کیا ہے تو پاک و بے نیاز ہے، ہمیں عذاب خدا سے محفوظ فرما۔ سورہ آل عمران آیہ ۱۹۰، ۱۹۱
۲۔ صفات جمال و جلال
ہمارا عقیدہ ہے کہ خداوند عالم ہر عیب و نقص سے پاک و منزہ ہے اور تمام کمالات سے آراستہ ہے، اس کی ذات، کمال مطلق اور مطلق کمال ہے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہاجائے کہ اس کائنات میں جتنا بھی حسن اور کمال پایا جاتاہے اس کا مبدا و منبع پروردگار عالم کی ذات با برکت ہے۔
ترجمہ: وہ اللہ وہ ہے، جس کے سوا کوئی عبادت کے لایق نہیں ہے۔ وہ بادشاہ، پاکیزہ صفات، بے عیب، امان دینے والا ، نگرانی کرنے والا صاحب عزت، زبردست اور کبریائی کا مالک ہے۔ وہ ان تمام باتوں سے پاک وپاکیزہ ہے جو مشرکین کیا کرتے ہیں۔ وہ ایسا خدا ہے جو پیدا کرنے والا ، ایجاد کرنے والااور صورتیں بنانے والا ہے، اس کے لیے بہترین نام ہیںزمین و آسمان کا ہر ذرہ اسی کے لیے محو تسبیح ہے اور وہ صاحب عزت و حکمت ہے۔سورہ حشر آیہ ۲۳،۲۴
یہ اس کی صفات جمال و جلال کے کچھ نمونہ ہیں۔
۳ ۔ خداوند عالم کی ذات پاک لا محدود ہے:
خداوندعالم کی وجود، تمام جہات سے لا متناہی ہے، علم و قدرت اورحیات ابدی و ازلی ہونے کے لحاظ سے، یہی دلیل ہے کہ اسے زمان و مکان میں قیدنہیں کیاجاسکتا․ اس لیے کہ زمان و مکان میں مقید محدود ہوتاہے، اس کے با وجود ، وہ ہر جگہ اور ہر زمانہ میں موجود ہے، اس لیے کہ وہ ہر زمان و مکان سے بالا اور مبرا ہے۔
یقینا وہ ہم سے بے حد قریب ہے وہ حقیقت میں موجود ہے ، وہ ہر جگہ موجود ہے اس کے با وجود کہ وہ بے مکان ہے :
ترجمہ: وہ اللہ وہ ہے جو آسمان و زمین معبود ہے اور وہ حکیم و علیم ہے۔سورہ زخرف آیہ ۴۸
وہ تمہارے ساتھ ہے تم جہاں بھی ہو اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کا دیکھنے والا ہے۔سورہ حدید آیہ ۴
یقینا وہ ہم سے خود ہماری بہ نسبت زیادہ قریب ہے، وہ ہمارے باطن میں موجود ہے، وہ سب جگہ حاضر و ناظر ہے جبکہ وہ مکان نہیں رکھتا۔
ترجمہ: اور ہم اس سے شہ رگ حیات سے زیادہ نزدیک ہیں۔سورہ ق آیہ ۶۱
وہ ہے ابتدا و آخر، ظاہر و باطن اور وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔سورہ حدیدآیہ ۳
۴۔ وہ جسم نہیں رکھتا اور ہرگزدکھائی نہیں دے گا۔
خدا وند عالم کو ہرگز آ نکھوںسے نہیں دیکھا جاسکتا، اس لیے کہ آنکھوں سے دیکھ جانے کے معنا یہ ہیں کہ وہ جسم ہے، مکان رکھتا ہے، رنگ و شکل و جہت رکھتاہے جب کہ یہ سب مخلوقات کی صفات ہیں اور خداوند عالم بالا و منزہ ہے اس بات سے کہ مخلوقات کے صفات اس کے اندر پائے جائیں۔
خداوند عالم کی رویت کا عقیدہ رکھنا، ایک طرح کا شرک ہے:
ترجمہ: آنکھیں اسے نہیں دیکھتی مگر وہ ہماری آنکھوں کو دیکھتاہے بے شک وہ بخشنے والا اور جاننے والاہے۔سورہ انعام آیہ ۱۰۳
یہی وجہ ہے کہ جب موسی کی قوم نے بہانہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم خدا کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں:
"لن نومن لک حتی نری اللہ جہرة " ہم ہرگز آپ پر ایمان نہیں لا ئیں گے مگر یہ کہ خداوند عالم کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔ سورہ بقرہ آیہ ۵۵
حضرت موسی (علیہ السلام ) انھیں کوہ طور پرلے گئے اور خداوند عالم سے بنی اسرائیل کی خواہش کا اظہار کیا اور خداوند عالم کی طرف سے یہ جواب آیا :
ہرگز مجھے نہیں دیکھ سکتے، ہاںکوہ طور کی طرف نگاہ کرو اگر وہ اپنی جگہ پرثابت رہاتو مجھے دیکھ سکتے ہو اور چونکہ جیسے ہی پروردگار نے کوہ طور پر جلوہ دکھا یاوہ خاک میں تبدیل ہوگیا اور موسی بے ہو ش ہوکر زمین پرگر پڑے، جب ہوش آیا، عرض کیا: پروردگارا تو منزہ ہے اس بات سے کہ آنکھوں سے دکھائی دے میں تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں اور مومنین میں سے پہلاہوں۔سورہ اعراف آیہ ۱۴۳
اس بات سے ثابت ہوتاسے کہ ہرگز خداوند عالم کو آنکھوں سے نہیں دیکھا جاسکتا۔
ہمارا عقیدہ ہے کہ بعض آیات و روایات میں جو خداوند عالم کو آنکھوں سے دیکھنے کا ذکر ہواہے۔ اس سے مراد ، دل اور باطن کی آنکھوں سے دیکھناہے․ اس لیے کہ آیات قرآن ایک دوسرے کی تفسیر کرتی ہیں:القرآن یفسر بہ بعضہ بعضا - یہ مشہور جملہ ہے جو ابن عباس سے نقل ہوا ہے، مگر یہ معنا نہج البلاغہ میں حضرت امیر علیہ السلام سے دوسری صورت میں بیان ہوا ہے:
"ان الکتاب یصدق بعضہ بعضا"(نہج البلاغہ خطبہ ۱۸) مولائے کائنات حضرت علی (علیه السلام) سے کسی نے دریافت کیا: ( یا امیر المومنین ہل رایت ربک) اے امیر المومنین کیا آپ نے خداوند عالم کو دیکھاہے؟ آپنے فرمایا: (أ اعبد مالا اری) کیا میں کسی ایسے کی عبادت کروں جسے میں نے دیکھا نہ ہو؟! پھر فرمایا: ( لا تدرکہ العیون بمشاہدة العیان، و لکن تدرکہ القلوب بحقایق الایمان) آنکھیں ہرگز اسے دیکھ نہیں سکتیں، ہاں دل کی آنکھیں اسے ایمان کی طاقت سے دیکھ سکتی ہیں۔ (نہج البلاغہ خطبہ ۱۷۹)
ہمارا عقیدہ ہے کہ خداوند عالم کی ذات میں مخلوقات کی صفات کا قائل ہونا، جیسے اس کے لئے مکان، جہت، جسم، مشاہدہ اور رویت کا قائل ہونا، اس کی معرفت سے دور ہونے اورشرک میں پڑھنے کا سبب ہے، بے شک وہ تمام ممکنات و مخلوقات ان کی صفات سے بالا اور منزہ ہے اور کوئی بھی شی ہرگز اس کی طرح نہیں ہو سکتی۔
۵۔ توحید ، تمام اسلامی تعلیمات کی روح ہے۔
ہمارا عقیدہ کہ معرفت خداوند عالم کے باب میں سب سے اہم مسئلہ معرفت توحید (اللہ کو ایک اوریکتا ماننا) ہے۔ توحید صرف اصول دین کا ہی ایک حصہ نہیں ہے بلکہ وہ تمام اسلامی عقاید کی اصل و روح ہے اور نہایت واضح الفاظ میں اس طرح کہا جاسکتاہے کہ تمام اسلامی اصول و فروع توحید میں مجسم ہوتے ہیں۔ ہر مقام پر گفتگو توحید و یکتا پرستی سے ہوتی ہے۔
اسی دلیل کی بنیاد پر قرآن مجید توحید الھی سے انحراف اور شرک کی طرف میلان کو ہرگز نا بخشے جا نے و الا گناہ قرار دیتاہے۔
ترجمہ: خداوند عالم (ہرگز) شرک کونہیں بخشے گا اور اس سے کم کو جسے چا ہتاہے (لایق سمجھتاہے) بخش دیتا ، اور جو بھی اللہ کے لیے شریک قرار دیتاہے وہ عظیم گناہ کا ارتکاب کرتاہے۔سورہ نساء آیہ ۴۸
ترجمہ: آپ پر اور آپ سے پہلے تمام انبیاء پر وحی ہو ئی ہے کہ مشرک بن گئے تو سارے اعمال تباہ ہوجائیں گے اور آپ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔سورہ زمر آیہ ۶۵
۶۔ توحید کی شاخیں
توحید کی بہت سی شاخیں ہیں، جن میں سے مندرجہ ذیل چار سب سے زیادہ اہم ہیں:
الف : توحید ذاتی
یعنی یہ کہ خداوند عالم کی ذات پاک ہے اور وہ اکیلا ہے اور کوئی اس کا شریک و نظیرنہیں ہے۔
ب: توحیدصفاتی
یعنی یہ کہ صفات علم و قدرت و ازلی و ابدی ․․․․ سب اس کی ذات میں جمع ہیں۔ اور یہ صفات اس کی عین ذات ہیں ۔مخلوقات کی طرح نہیں ہے کہ ان کی ساری صفات ایک دوسرے سے الگ اور ان کی ذات سے جدا ہیں ۔البتہ خداوند عالم کی ذات و صفات کا ایک ہونا․ ایک ایسی بحث ہے جس کے لئے ظرافت اور دقت لازمی ہے۔
ج: توحید افعالی:
یعنی یہ کہ ہر فعل و حرکت جو اس دنیا میں انجام پاتاہے وہ سب پروردگار عالم کی مشیت و ارادہ سے وجود میں آتاہے:
اللہ خالق کل شی و ہو علی کل شی وکیل۔ خداوند عالم تمام اشیاء کا پیدا کرنے والا اور ان پر حافظ و ناظر ہے۔سورہ زمر آیہ ۶۲
"لہ مقالید السموات و الارض ، آسمان و زمین کی چابھیاں اس کے پاس ہیں ۔ ( یعنی اس کے دست قدرت میں ہیں"سورہ شوری آیہ ۱۲
بے شک (لا موثر فی الوجود الا اللہ)اللہ تعالی کے سوا․ کوئی اس جہان ہستی میں موثر نہیں ہے۔
اس بات کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم اپنے کام انجام دینے میں مجبور ہیں، ایسا نہیں ہے بلکہ ہم اپنے ارادے اور فیصلے میں آزاد ہیں ( انا ھدیناہ السبیل اما شاکرا و اما کفورا) ہم نے اسے (انسان) کو ہدایت کردی (اور اسے راستے دکھا دئیے) چاہے وہ شکر گزار بن جائے(اور قبول کرے) یا انکار کردے (اور طغیان کرے)سورہ انسان آیہ ۳
"و ان لیس للانسان الا ما سعی"․ انسان جو کچھ حاصل کرتاہے اپنی سعی و کوشش سے حاصل کرتاہے۔سورہ نجم آیہ ۳۹
یہ آیہ کریمہ صراحت کے ساتھ بیان کر رہی ہے کہ انسان آزاد و خود مختار ہے لیکن چونکہ ارادہ کی آزادی اور کام انجام دینے کی قدرت اللہ تعالی نے ہمیں عطا کی ہے لہذا ہمارے کا م اسی سے نسبت رکھتے ہیں مگر اس سے انجام پانے کی ذمہ داری ہم سے ختم نہیں ہوتی۔ اس پر توجہ ہونے چاہئے۔
اگر ہم اپنے افعال کے انجام دینے میں مجبور ہوتے تو نہ انبیاء کی بعثت کا کوئی مفہوم ہوتانہ ہی آسمانی کتابوں کے نازل ہونے کا کوئی مقصد، اور نہ ہی دینی فریقوں اور تعلیم و تربیت کا کوئی فایدہ ہوتا اور جزا و سزا بھی بے معنی و مفہوم ہوجاتے، یہ وہ تعلیمات ہیں جنہیں ہم نے ائمہ اھل بیت علیہم السلام کے مکتب سے حاصل کیاہے، فرماتے ہیں: نہ جبر مطلق صحیح ہے اور نہ تفویض و آزادی مطلق بلکہ ان کے در میان کا راستہ انتخاب کرنا صحیح ہے: " لا جبر و لا تفویض و لکن امر بین الامرین"اصول کافی جلد ۱،صفحہ ۱۶۰ (باب الجبر والقدر والامر بین الامرین)
د ۔ توحید عبادت
عبادت ،خداوند عالم سے مخصوص ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، یہ شاخ ،توحید کی سب سے اہم شاخ میں شمار ہوتی ہے اور انبیاء الہی سب سے زیادہ اس پر تاکید کرتے ہیں:
انھیں (انبیاء) اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اور اپنے دین کو اس کے لیے خالص کریں اور شرک سے باز آئیں، یہ ہے اللہ کا محکم اور پایدار دین۔سورہ بینہ آیہ ۵
اخلاق و عرفان کے کمال کی منزلیں طے کرنے کے لیے اس سے بھی عمیق توحید کی ضرورت ہوتی ہے، اس راہ میں توحید اس منزل تک پہیچ جاتی ہے جہان انسان صرف اللہ تعالی سے لو لگاتاہے اور ہر مرحلہ پر صرف اسی کو طلب کرتاہے،
اور اس کے سوا کسی کی فکر اسے مشغول نہیں کرتی اور کوئی بھی شی اسے خدا سے دور کرکے خود میں مشغول نہیں کرتی:
"کلما شغلک عن اللہ فھو ضمک" ہر چیز جو تجھے خود سے مشغول کردے اور خداوند سے دور کرے ، وہ تیرابت ہے۔
ہمارا عقیدہ ہے کہ توحید کی شاخیں صرف ان چار تک محدود و منحصر نہیں ہیں بلکہ توحید مالکیت (تمام اشیاء کا مالک خداوند عالم ہے "اللہ ما فی السماوات و ما فی الارض "سورہ بقرہ آیہ ۲۸۴
و توحید حاکمیت (قانون بنانے کا حق صرف اللہ تعالی کوہے "من لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ہم الکافرون"سورہ مائدہ آیہ ۴۴
یہ سب توحید کی شاخیں ہیں۔
خلاصه: توحید افعالی کی اصل اور بنیاد اس حقیقت کی تاکید کرتی ہے کہ وہ عظیم معجزات و کرامات، جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے ظاہر ہوئے ہیں، سب اللہ کے اذن سے تھے، جیسا کہ قرآن مجید میں حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے ارشاد ہواہے: " و تبری الاکمہ و الابرص باذنی و اذ تخرج الموتی باذنی " ترجمہ: پیدا یشی اندھوں اور برص جیسے نا قابل علاج مریضوں کو میرے اذن سے شفا دیتے تھے اور مردوں کو میرے حکم سے زندہ کیا کرتے تھے۔سورہ مائدہ آیہ ۱۱۰
اور حضرت سلیمان کے ایک وزیر کے بارے میں ارشاد ہوتاہے:
ترجمہ: وہ جس کے پاس کتاب آسمانی کا علم تھا، کہا: میں آپ کے پلک چھپکنے سے پہلے اسے (ملکہ سبا کے تخت کو) آپ کے پاس لا سکتا یہوں اور جب حضرت سلیمان نے اسے اپنے سامنے مستقر دیکھا تو کہا: یہ میرے اللہ کے فضل (ارادہ ) فضل سے ہے۔ سورہ نحل آیہ ۴۰
لہذا اللہ کے حکم سے حضرت عیسی علیہ السلام ناقابل علاج مریضوں کو شفا دیتے اور مردوں کو زندہ کرنے کی نسبت دینا، جیسا کہ قرآن مجید میں صراحت کے ساتھ بیان ہواہے، عین توحید ہے۔
7. اللہ کے فرشتے
ہمارا عقیدہ ہے کہ ملائکہ وجود رکھتے، ہیں اور ان میں سے ہر ایک کو خاص امرکے لئے مقرر کیا گیاہے، بعض کو ابلاغ و حی پرمامور کیا گیا تھا۔
" فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلىَ قَلْبِكَ بِإِذْنِ اللَّهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَينْ َ يَدَيْهِ " ترجمه: (جو شخص بھی جبریل کا دشمن ہے اسے معلوم ہونا چاہئے) اس نے آپ کے دل پر قرآن، حکم خدا سے اتارا ہے.سورہ بقرہ آیہ۹۷۔
ایک گروہ کو انسانوں کے اعمال لکھنے پر مامور کیاگیاہے۔" كِرَامًا كَاتِبِين" جو باعزّت لکھنے والے ہیں. سورہ انفطار آیہ۱1۔
ایک گر وہ قبض روح پر مامور ہے۔ "حَتىَّ إِذَا جَاءَتهم رُسُلُنَا يَتَوَفَّوْنهَم" ترجمه: یہاں تک کہ جب ہمارے نمائندے فرشتے مّدت حیات پوری کرنے کے لئے آئیں گے.سورہ اعراف آیہ۳۷۔
ایک گروہ کو مومنین حقیقی کی مدد پر مامور کیا گیاہے۔ "تَتَنزََّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَئكَةُ أَلَّا تخَافُواْ وَ لَا تحزَنُواْ وَ أَبْشِرُواْ بِالجنَّة" ترجمه: ان پر ملائکہ یہ پیغام لے کر نازل ہوتے ہیں کہ ڈرو نہیں اور رنجیدہ بھی نہ ہو اور اس جنّت سے مسرور ہوجاؤ. سورہ فصلت آیہ ۳۰۔
ایک گروہ کو جنگوں میں مومنین کی مدد کے لیے مامور کیا گیا ہے۔ "يَأَيهَُّا الَّذِينَ ءَامَنُواْ اذْكُرُواْ نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكمُ ْ إِذْ جَاءَتْكُمْ جُنُودٌ فَأَرْسَلْنَا عَلَيهمْ رِيحًا وَ جُنُودًا لَّمْ تَرَوْهَا" ترجمه:ایمان والو! اس وقت اللہ کی نعمت کو یاد کرو جب کفر کے لشکر تمہارے سامنے آگئے اور ہم نے ان کے خلاف تمہاری مدد کے لئے تیز ہوا اور ایسے لشکر بھیج دیئے جن کو تم نے دیکھا بھی نہیں تھا. اْحزاب آیہ ۹
ایک گروہ کا کام باغی اور سرکش قوموں پر عذاب نازل کرناہے ۔"وَ لَمَّا جَاءَتْ رُسُلُنَا لُوطًا سىِ ءَ بهِمْ وَ ضَاقَ بهِِمْ ذَرْعًا "
ترجمه:اور جب ہمارے فرستادے لوط کے پاس پہنچے تو وہ ان کے خیال سے رنجیدہ ہوئے اور تنگ دل ہوگئے. سورہ ھود آیہ ۷۷
اس کے علاوہ کائنات کے دوسرے امور ان کے حوالے کے گیے ہیں۔
چونکہ یہ سارے امور اللہ کے اذن اور حکم اور اس کی نصرت و استعانت سے ملائکہ کے سپرد کے گیے ہیں لہذا اصل توحید افعالی اور توحید ربوبیت سے نہ صرف یہ کہ اس سے کوئی منافات نہیں ہے بلکہ اس پر تاکید بھی ہے۔
اس سے یہ بات بھی روشن اور واضح ہوجاتی ہے کہ چونکہ شفاعت انبیاء و ائمہ و ملائکہ، اللہ کے اذن اور حکم سے ہے لہذا عین توحید ہے ۔"مامن شفیع الا من بعد اذنہ " کوئی بھی شفاعت کرنے والا خدا کے اذن کے بغیر شفاعت نہیں کرسکتا۔سورہ یونس آیہ۳
یه مسئلہ اور مسئلہ توسل کے بارے میں تفصیلی بحث انشاء اللہ نبوت انبیاء کے باب میں آئے گی ۔
8- عبادت خداوند عالم سے مخصوص ہے۔
عبادت خداوند عالم کی ذات اقدس سے مخصوص ہے۔ (جیسا کہ توحید عبادت کی بحث میں اشارہ ہوا ہے) لہذا جو بھی غیر خدا کی پرستش کرے گا وہ مشرک ہے، تمام انبیاء کی دعوت اسی مسئلہ پر متمرکز ہے۔
"اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ" خداوند عالم کی عبادت کرو کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔
یہ بات قرآن مجید میں انبیاء کے حوالے سے کئی بار ذکرہوئی ہے۔ قابل توجہ ہے کہ دنیا کے تمام مسلمان ہمیشہ اپنی نمازوں میں سورہ حمد میں ایک مہم اسلامی شعار کے طور پر اس آیہ کریمہ کی تکرار کرتے ہیں اور کہتے ہیں "ایاک نعبد و ایاک نستعین " ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے استعانت و مدد طلب کرتے ہیں۔
واضح ہے کہ ائمہ اللہ تعالی کے اذن سے انبیاء اور فرشتوں کے شفاعت کرنے کا عقیدہ جیسا کہ قرآن مجید میں بیان ہوا اللہ کے اذن سے ہے ، عبادت کے معنی میں نہیں ہے۔
اسی طرح انبیاء سے متوسّل ہونا، اس معنی میں کہ وہ پروردگار عالم سے ان کی مشکلات کے حل کے لئے توسل کریں، یہ بات نہ پرستش و عبادت میں شمار ہوتی ہے اور نہ ہی توحید افعالی و توحید عبادت سے منافات رکھتی ہے۔ اس مسئلہ کی تفصیل نبوت کی بحث میں آئے گی۔ انشاء اللہ۔
9- پروردگار عالم کی حقیقت سب کے لیے پوشیدہ ہے۔
ہمارا عقیدہ ہے کہ با وجود اس کے کہ خداوند عالم کے وجود کے آثار تمام کائنات پر آشکار و ہویدا ہیں، اس کی حقیقت ذات کسی پر روشن نہیں ہے۔ اور کوئی بھی اس کے حقیقت وجود تک رسائی حاصل نہیں کرسکتا، اس لیے کہ اس کی ذات تمام جہات سے لا محدود ہے اور انسان ہر لحاظ سے محدود ہے۔ اور محدود کے لیے نامحدود کا احاطہ کرنا ممکن نہیں ہے: "الا انہ بکل شی محیط لا محدود"بے شک وہ تمام شی پر احاطہ و قدرت رکھتاہے۔سورہ فصلت آیہ۵۴
"و اللہ من ورائھم محیط" پروردگار عالم تمام اشیاء پر محیط ہے۔سورہ بروج آیہ ۲۰
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مشہور و معروف حدیث میں ارشاد ہواہے: "ما عبد ناک حق عبادتک و ما عرفناک حق معرفتک "
ہم نه تیری عبادت کرسکے اور نه معرفت کا کما حقہ حق ادا کرسکے۔بحار الانوار جلد ۶۸ صفحہ ۲۳
واضح رہے کہ اس کہ معنا یہ نہیں ہیں کہ چونکہ ہم اس کے بارے میں علم تفصیلی نہیں رکھتے لہذا علم و معرفت اجمالی بھی حاصل نہ کریں اور صرف معرفت الہی کی باب میں ذکر ہونے والے ان الفاظ پر قناعت کریں جو ہمارے لیے واضح نہیں ہیں۔ یہ وہی نظریہ تعطیل معرفت ہے جسے ہم قبول نہیں کرتے ،اور جس کا عقیدہ نہیں رکھتے۔اس لیے کہ قرآن مجید اور دیگر آسمانی کتابیں سب کی سب اللہ کی معرفت اور شناخت کے لیے نازل کی گئی ہیں۔
اس موضوع کے بارے میں اور بهی مثالیں دی جاسکتی ہیں جیسے ہم حقیقت روح کے بارے میں نہیں جانتے کہ کیاہے؟
لیکن اس کے بارے میں اجمالی علم ہمیں ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمیں معلوم ہے کہ روح وجود رکھتی ہے اور ہم اس کے آثار کا مشاہدہ کرتے ہیں۔
امام باقر علیہ السلام کی ایک حدیث مین ارشاد ہوا ہے: "کلما میز تموہ باوھامکم فی ادق معانیہ فهومخلوق ومصنوع مثلکم مردود الیکم" ہر وہ چیز جسے انسان فکر و نظرسے اس کے واقعی معنا تک تصور کرسکے وہ آپ کی مخلوق و مصنوع ہوجاتی ہے اور خود اس انسان کے مانند ہے اور وہ تمہاری طرف ہی پلٹنی ہے۔ (اور یقینا خداوند عالم اس سے مبرا و منزہ ہے) بحار الانوار جلد ۶۶ صفحہ ۲۹۳
حضرت امیر المومنین کی ایک حدیث میں معرفت الہی کی دقیق راہ کو نہایت بلیغ و حسین پیرایہ میں بیان کیا ہے ارشاد فرماتے ہیں: لم یطلع اللہ سبحانہ العقول علی تحدید صفتہ، و لم یحجبھا امواج معرفتہ" خداوند عالم نے عقلوں کو اپنی صفات کی حد سے آگاہ نہیں کیا ہے اور (جبکہ) اسی کے با وجود انھیں ضروری ا شناخت و معرفت سے محروم اور محجوب نہیں کیاہے۔غرر الحکم
خلاصه:ہمارےعقیدے کے مطابق نہ تعطیل صحیح ھیں -یعنی خداوند عالم اور اسکی صفات کی شناخت و معرفت کا تمام اور کمال حاصل کرلینا صحیح نہیں ہے، اسی طرح سے تشبیہ کے عقیدہ کا قائل ہونا بھی غلط اور شرک آلود ہے، یعنی ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس ذات پاک کو بالکل نہیں پہنچان سکتے، اس کی معرفت حاصل کرنے کا ہما رے پاس کوئی راستہ نہیں ہے ، جیسا کہ اسے مخلوقات سے تشبیہ نہیں دے سکتے۔ ایک راہ افراط پر منتہی ہوئی ہے تو دوسری تفریط پر ،اس نکتہ پر توجہ ہوئی چاہیے۔
برچسبها: ذات خدا اور اس کی وحدانیّت, خداوند عالم کی ذات پاک لا محدود ہے, وہ جسم نہیں رکھتا
برچسب:
نویسنده: باران کاشانی