ہمارا عقیدہ ہے کہ خداوند عالم نے انسانوں کی ہدایت اور انھیں کمال و سعادت ابدی تک پہنچانے کے لیے انبیاء و مرسلین کو مبعوث کیاہے، کیونکہ اگر خداوند عالم انھیں نہ بھیجتا تو انسان کے بیجهنے کا مقصد حاصل نہ ہوتا اور وہ گمراہی کے گرداب میں غوطہ ور رہتے:
رسلا مبشرین ومنذرین لئلایکون للناس علی اللہ حجة بعد الرسل و کان اللہ عزیزا حکیما۔
ترجمہ: انبیاء (کو بھیجا) بو حنت بچی دینے جو بشارت اور جہنم سے ڈرانے والے تھے تا کہ لوگوں پر سے حجت تمام ہوجائے ( تا کہ انبیاء لوگوں کو راہ سعادت و کمال دکھائیں اور سب کے لیے اتمام حجت کا سبب ہو) اور یقینا خداوند قدرت اور حکمت والاہے۔سورہ نساء آیہ ۱۶۵
ہمارا عقیدہ ہے کہ انبیاء میں پانچ حضرات اولو العزم اور صاحب شریعت ہیں، جن کے پاس آسمانی کتاب اور نئی شریعت تھی، ان میں سب سے پہلے حضرت نوح علیہ السلام ہیں پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام ، اس کے بعد حضرت موسی و حضرت عیسی (ع) اور ان میں آخری حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہیں۔و اذ اخذنا من النبیین میثاقھم و منک و من نوح و ابراھیم و موسی و عیسی بن مریم و اخذنا منھم میثاقا غلیظا۔ اس وقت کو یاو کریں جب ہم نے انبیاء سے عهد لیا اور آپ سے نوح و ابراہیم و موسی و عیسی ہے اور ہم نے ان سب سے محکم عهد لیا سورہ احزاب آیہ ۷
ہمارا عقیدہ ہے کہ پیغمبر اسلام،خاتم الانبیاء اور اللہ کے آخری رسول میں اور ان کی شریعت دنیا کے تمام لوگوں کے لیے ہے اور دنیا کے ختم ہونے تک باقی رہے گی. اور نبی اسلام کی بعد جو بھی نبوت و رسالت کا دعوی کرے وہ باطل و بے بنیاد ہے۔
ما کان محمد ابا احد من رجالکم و لکن رسول اللہ و خاتم النبیین و کان اللہ بکل شی علیما۔
محمد (ص) تم میں سے کسی بھی فرد کی منی بوے باپ نہیں ہیں، وہ اللہ کے رسول اور خاتم المرسلین رہیں اور یقینا خداوند پرستی ہے تم میں سے کسی بھی مرد آگاہ ہے۔ سورہ احزاب آیہ۴۰
ہمارا عقیدہ ہے کہ تمام انبیاء الہی معصوم عن الخطا ہیں، عمر کے ہر حصہ میں ( چاہے نبوت سے پہلے کی عمر ہو یا بعد کی) وہ خطا و غلطی و گناہ سے اللہ کی تائید و توفیق سے محفوظ رہتے ہیں، اس لیے کہ اگر وہ گناہ یا خطاء کے مرتکب ہوں تو مقام نبوت پرسے لوگوں کا اعتماد ختم ہوجائے گا اور لوگ انہیں اپنے اور خدا کے درمیان واسطہ بنانے سے مطمئن نہیں رہیں گے اور انھیں اپنی زندگی کے تمام امور میں اپنا راہنما نہیں بنا سکیں گے۔
اسی دلیل کے تحت ہمارا عقیدہ ہے کہ اگربعض آیات قرآنی کے ظاہر سے بعض نبیوںکی طرف گناہ کی نسبت دی گئی ہے وہ ترک اول کے طور پر ہیں (یعنی یہ کہ انھوں نے نیک کاموں میں کم درجہ کا کو منتخب کرلیا حالانکہ بھتر یہ ہوتا کہ وہ عالی درجہ کام کا انتخاب کرتے۔ یا دوسری تعبیر کے مطابق جیسے (حسنات الابرار سیئات المقربین) اچھوں کی نیکیاں (کبھی) مقرب لوگوں کے لیے گناہ کا درجہ اختیار کرلیتی ۔ (مرحوم علامہ مجلسی نے بحارالانوار میں اس جملہ کی نسبت آئمہ علیہم السلا م طرف دی ہے،حالانکہ انھوں نے کسی معصوم کا نام نہیں لیا ہے۔(بحار الانوار جلد ۲۵ صفحہ ۲۰۵)
اس لیے کہ ہر انسان سے عمل کی توقع اس کے مقام و مرتبہ کے صاحب سے کی جاتی ہے۔
ہمارا عقیدہ ہے کہ اللہ کے نبیوں اور رسولوں کا سب سے بڑا افتخار یہ تھا کہ وہ اس کے مطیع و فرمانبردار بندے تھے، یہی دلیل ہے کہ ہم ہر روز اپنی نمازوں میں پیغمبر اکرم ((ﷺ) کے بارے میں اس جملہ کی تکرار کرتے ہیں : و اشھد ان محمدا عبدہ و رسولہ، میں گواہی دیتاہوں کہ محمد ((ﷺ) اللہ کے بندہ اور اس کے رسول ہیں۔
ہمارا عقیدہ ہے کہ کسی بھی نبی نے اللہ ہونے کا دعوی نہیں کیاہے اور لوگوں کو اپنی عبادت کی دعوت نہیں دی ہے ۔ ما کان بشر ان یوتیہ اللہ الکتاب و الحکم و النبوہ ثم یقول للناس کونوا عبادا لی من دون اللہ۔
ترجمہ: کسی بھی انسان کے لیے بھتر نہیں ہے کہ خداوند اے آسمانی کتاب اور حکم و نبوت دے اور پھر وہ لوگوں سے کہے کہ خدا کے علاوہ میری عیادت کرو۔سورہ آل عمران آیہ ۷۹
یہاں تک کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے بھی ہرگز لوگوں کو اپنی عبادت کی دعوت نہیں دی اور ہمیشہ خود کو اللہ کی مخلوق ، بندہ اور رسول ہونے کا اعلان کیا:
لن یستنکف المسیح ان یکون عبدا اللہ و لا الملائکہ المقربون۔ ہرگز عیسی (ع) کواس بات سے انکار نہیں تھا کہ وہ اللہ کے بندہ ہیں اور نہ ہی مقرب فرشتوں نے کبھی اس بات کی تائید کی کہ وہ اللہ کے بندے نہیں ہیں۔(سورہ نساء آیہ ۱۷۲)عیسائیت کی موجودہ تاریخ بھی گواہی دیتی ہے کہ مسئلہ تثلیث (تین خدا کا عقیدہ رکھنا) پهلی صدی عیسوی میں اس کا وجود نہیں تھا بلکہ یہ عقیدہ بعد میں پیدا ہوا ہے۔
انبیاء کا بندہ ہونا اس بات سے منافات نہیں رکھتا کہ وہ اذن و فرمان خداوند سے غیب کی ماضی، حال اور مستقبل کی باتوں سے آگاہ نہ ہوں۔ عالم الغیب فلا یظھر علی غیبہ احدا الا من ارتفی من رسول ۔ترجمہ: پروردگار عالم غیب کا جاننے والا ہے و کسی کو اپنے غیب کے اسرار سے آگاہ نہیں کرتا مگر ان رسولوں کو جنھیں اس نے منتخب کیاہے۔سورہ جن آیہ ۲۶، ۲۷
ہمیں معلوم ہے کہ حضرت عیسی کی معجزوں میں سے ایک یہ تھا کہ وہ لوگوں کو غیب کی خبر دیتے تھے:و انبئکم بما تاکلون و ما تدخرون فی بیوتکم۔ میں تمہیں ان چیزوں کے بارے میں، جو تم کھاتے ہو اور اپنے گھروں میں جمع کرتے ہو، خبر دیتاہوں۔سورہ آل عمران آیہ ۴۹
لہذا اس بات میں کوئی منافات نہیں ہے کہ انبیاء الھی وحی کے ذریعہ اللہ کی اجازت سے لوگوں کو غیب کی خبریں دیں اور قرآن مجید کی جن آیات میں نبی اکرم(ص) سے غیب کے علم کی نفی کی گئی ہے: جیسے و لا اعلم الغیب و لا اقول لکم انی ملک۔ مجھے غیب کا علم نہیں ہے اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میں ملک ہوں۔سورہ انعام آیہ ۵۰
اس سے مراد علم ذاتی و استقلالی ہے وہ علم نہیں ،جو تعلیم الھی کے ذریعہ حاصل ہوتاہے، جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ قرآن مجید کی بعض آیات ،دیگر بعض کی تفسیر کرتی ہیں۔
ہمارا عقیدہ ہے کہ انبیاء الھی غیر معمولی کاموں اور اہم معجزات کو اللہ کے اذن سے انجام دیا کرتے تھے اور اس طرح کے کام انجام دینے کا عقیدہ رکھنا ،جو اللہ کے اذن سے ہو، نہ شرک ہے اور نہ ہی مقام عبودیت سے کوئی منافات رکھتاہے۔ حضرت عیسی (ع) قرآن مجید کی صراحت کی مطابق مردوں کو اللہ کے اذن سے زندہ کردیا کرتے تھے، ناقابل علاج بیماروں کو اللہ کے حکم شفاء عطا کیا کرتے تھے: و ابری الاکمہ والابرص و احی الموتی باذن اللہ۔سورہ آل عمران آیہ ۴۹
ہمارے عقیدہ کے مطابق انبیاء الھی اور ان میں سب سے افضل و برتر پیغمبر اسلام (ﷺ) مقام شفاعت رکھتے ہیں اور گناہ گاروں کے خاص گروہوں کے لیے خداوند عالم سے شفاعت کریں گے۔ یہ شفاعت بھی اذن و اجازہ پروردگار کے ساتھ ہوگی:ما من شفیع الا من ہو اذنہ۔ کوئی بھی شفاعت نہیں کرسکتا مگر وہ جسے اللہ اذن دے گا. سورہ یونس آیہ ۳
من ذا الذی یشفع عندہ الا باذنہ۔ کون ہے جو اللہ شفاعت کرے مگر یہ کہ اس کے اذن سے۔سورہ سورہ بقرہ آیہ ۲۵۵
اور اگر قرآن مجید کی بعض آیات کریمہ میں بطور مطلق شفاعت کی نفی کی گئی ہے اور ارشاد ہو رہاہے:من قبل ان یاتی یوم لا بیع فیہ ولا خلة"انفاق کرو اس دن کے آنے سے پہلے کہ جس دن نہ بیع ہوگی (تا کہ کوئی اینے لیے سعادت و نجات کو خرید کے) نہ دوستی (اور معمولی رفاقت کا کوئی فایدہ نہیں ہوگا) اور نہ شفاعت ۔یہاں شفاعت سے مراد استقلالی اور بغیر اذن والی شفاعت ہے یا ایسے لوگوں کے بارے میں ہے جن میں شفاعت کی قابلیت ہوگی۔ اس لیے کہ قرآن مجید کی بعض آیات دیگر بعض کی تفسیر کرتی ہیں۔
ہمارا عقیدہ ہے کہ مسئلہ شفاعت، انسانوں کی تربیت اور گناہگاروں کو راہ راست پر پلٹانے اور انھیں پاکی و تقوی کی طرف تشویق دلانے ،ان کے دل میںامید زندہ کرنے کے لیے نہایت اہم وسیلہ ہے۔ اس لیے کہ ایسا نہیں ہے مسئلہ شفاعت بغیر کسی حساب و کتاب کے ہو بلکہ یہ صرف ایسے افراد اور لوگوں کے لیے ہے جن میں اس کی شایستگی و اہلیت پائی جاتی ہوگی یعنی ان کے گناہ اس حد تک نہ ہوں کہ ان کا رابطہ شفاعت کرنے والے حضرات سے بالکل ٹوٹ گیاہو۔ مسئلہ شفاعت گناہگاروں میں خوف پیدا کرانے کہ لیے ہے کہ انسان اپنے پیچھے بازگشت کے ایک راستہ کو کھلا رکھے اور شفاعت کی لیاقت و استعداد کو ہاتھ سے نہ جانے دے۔
ہمارا عقیدہ ہے کہ توسل کا مسئلہ بھی شفاعت کی طرح ہے۔ یہ مسئلہ مادی و معنوی مشکل میں پھنسے ہوئے لوگوں کو امید اور اجازت دیتاہے کہ اولیاء الھی کے دامن کا سہارا لیں تا کہ اللہ تعالی کے اذن سے وہ ان کی مشکلات کو حل کرا دیں۔ یعنی یہ کہ ایک طرف تو وہ خود اللہ کی بارگاہ میں حضور پیدا کریں اور دوسری طرف اولیاء الھی کو اپنا وسیلہ قرار دیں:
اگر وہ لوگ خود پر ظلم کرنے اور گناہ کے مرتکب ہونے کے بعد، آپ کے پاس آتے اور اللہ سے طلب بخشش کرتے اور رسول خدا (ص) بھی ان کے لیے طلب غفران کرتے تو خداوند عالم کو معاف کرنے والا اور مھربان پاتے۔سورہ نساء آیہ ۶۴
حضرت یوسف اور ان کے بھائیوں کی داستان میں ہم یہ پڑھتے ہیں کہ وہ سب اپنے والہ سے متوسل ہوئے اور سب نے کہا:
یا ابانا استغفر لنا انا کنا خاطئین۔ اے پدر، ہمارے لیے خداوند سے طلب مغفرت کریں، اس لیے کہ ہم نے خطا کی تھی، بوڑھے باپ (یعقوب نبی) نے ان کے اس درخواست کو قبول کیا اور ان سے مدد کا وعدہ کیا اور کہا: سوف استغفر لکم ربی۔ عنقریب میں تم سب کے لیے بارگاہ خداوندی میں طلب مغفرت کروں گا.سورہ یوسف آیہ ۹۷،۹۸
یہ آیات اس بات کی گواہ ہیں کہ توسل گذشتہ امتوں میں بھی تھا اور آج بھی باقی ہے۔
ہاں اس عقلی حدسے تجاوز نہیں کرنا چاہیے اور اولیاء خدا کو مستقل اور اذن خداوند سے بے نیاز نہیں سمجھنا چاہیے اس لیے کہ ایسا کرنا مشرک و کفرکا سبب بن جائے گا۔
غالبا تمام اسلامی فرقوں کی عوام توسل کے مسئلے میں افراط و تفریط سے کام لیتی ہے۔ ایسے لوگوں کی ہدایت و راہنمایی کرنی چاہیے۔
ہمارا عقیدہ ہے کہ تمام انبیاء کا ہدف مشترک تھا اور وہ انسانی معاشرہ میں ایمان، خدا و قیامت ، دین کی صحیح تعلیم و تربیت اور اخلاقی اصولوں کی تقویت سے انسانوں کو سعادت تک پہچانا ہے۔ یہی دلیل ہے کہ تمام انبیاء محترم ہیں، قرآن مجید نے ہمیں اس بات کی تعلیم دی ہے:
لا نفرج بین احد من رسلہ: ہمارے نزدیک انبیاء الھی کے در میان کوئی فرق نہیں ہے۔ سورہ بقرہ آیہ ۲۸۵
اگر چہ زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ بشریت اعلی تعلیمات کے لیے بتدریج آمادہ ہوتی گئی اور ان تعلیمات کے عمق میں اضافی ہوتا گیا اور سلسلہ یہاں تک آگے بڑھا کہ آخری اور کامل ترین دین ا،سلام تک آگیا اور خداوند عالم کی طرف سے یہ حکم صادر ہوگیا کہ
الیوم الکمات لکم دینکم و التمت علیکم نعمتی و رفیت لکم الاسلام دینا۔ آج میں نے تمہارے دین کو کامل کردیا اور اپنی نعمتوں کو تم پر تمام کردیا اور اسلام کو دین جاوید کے طور پر قبول کرلیا۔سوره مائده آیه 03
بہت سے نبیوں نے اپنے بعد آنے والے پیغمبروں کی بشارت دی، جیسے حضرت موسی (علیه السلام) حضرت عیسی (علیه السلام) جنھوں پیغمبر اسلام(ﷺ) کے بارے واضح نشانیوں کی ساتھ خبردی، جو آج بھی ان کی بعض کتابوں میں مندرج ہے:
جو لوگ اللہ کے امی (دنیا میں درس نہ پڑھنے والے اگر عالم و آگاہ) رسول کی پیروی کرتے ہیں، و ہی نبی جس کے صفات کو وہ تورات و انجیل جوان کے یاس ہے امین ہوتے ہیں․․․․․․․ایسے لوگ ہی کامیاب و کامران ہیں.(سورہ اعراف آیہ ۱۵۷)
اس بات کی دلیل ہم تاریخ میں پڑھتے ہیں کہ پیغمبر اسلام(ﷺ) کی بعثت سے پہلے یہود کا ایک گروہ مدینہ آیا اور وہ بڑی بے صبری اور بے تابی سے آپ کے بعثت کا انتظار کر رہے تھے، اس لیے کہ انھوں نے اپنی کتابوں میں پڑھا تھا کہ اس کا ظہور اسی سرزمین سے ہوگا۔ اگرچہ آپ کے مبعوث بہ رسالت ہونے کے بعد ان میں سے بعض ایمان لے آئے اور بعض اپنے فایدوں کی وجہ سے مخالفت پر اترآئے۔
آسمانی ادیان جو اللہ کے رسولوں کو دیئے گیے یہ خاص طور پردین اسلام ، وہ صرف انسان کی فردی انفرادی زندگی یا معنوی و اخلاقی مسائل تک منحصر نہیں تھے بلکہ وہ انسان کی معاشرتی زندگی کے تمام پہلووں اور گوشوں پر محیط تھے۔ یہاں تک کہ بہت سے علوم ،جو انسان کی روزمرہ زندگی کے لیے ضروری اور ناگزیر تھے، لوگ آپ سے ان کی تعلیم حاصل کرتے تھے، جس میں بعض کی طرف قرآن مجید میں بھی اشارہ کیا گیاہے۔
انبیاء الھی کے منجملہ مہمترین اہداف میں سے ایک ہدف، سماج اور معاشرہ میں نظام عدل و انصاف قائم کرنا تھا:
ترجمہ: ہم نے اپنے رسولوں کے روشن دلایل کے ساتھ بھیجا ان کے ساتھ آسمانی کتاب اور میزان (حق کو باطل کی بھجان اور عادلانہ قوانین کو نازل کیا تا کہ (دیناکے) لوگ عدل و انصاف قائم کریں۔سورہ حدید آیہ ۲۵
انبیاء الھی مخصوصا پیغمبر اسلام (ﷺ) کسی طرح کے قومی و نسلی امتیاز کو قبول نہیں کرتے تھے بلکہ ان کی نظر میں دنیاکی ساری نسلیں ، زبانیں ، قومیں اور ملتیں یکسان تھیں۔ قرآن مجید تمام انسانوں کو خطاب کرتے ہوئے اعلان کرتاہے:
اے لوگوں ہم نے تمیں ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا اور تمییں خاندان اور قبیلوں میں قراردیا تا کہ ایک دوسرے کو پہچان سکو (یہ کوئی امتیاز کا معیار نہیں ہے) ہم اللہ کے نزدیک تم سب سے زیادہ محترم سباسے زیادہ تقوی لوگ ہیں۔سورہ حجرات آیہ ۱۳
پیغمبر اسلام (ﷺ) کی ایک نہایت معروف حدیث میں اس طرح سے ذکر ہواہے کہ سرزمین منی پر (حج کے موسم میں ) آپ اس حالت میں کہ شتر پرسوار تھے،لوگوں کی طرف رخ کیا اور یہ حدیث ارشاد فرمائی:
اے لوگو ، جان لو کہ تمہارے پروردگار ایک ہے ، تمہارا باپ ایک ہے، نہ عرب کو عجم پر برتری ہے ، نہ عجم کو عرب دلی نہ سیاہ پوست کو گندمی رنگ والے پر برتری ہے، نہ گندمی رنگ والے کو سیاہ پوست والوں پر، اس برتری کا معیار صرف تقوی ہے۔ کیا میں نے ثم تک پیغام پہچادیا؟ سب نے کیا: ہاں۔ پھر فرمایا ابن بات کو حاضرین غائبین تک پہنچائیں۔
تفسیر قرطبی ، جلد ۹ صفحہ ۶۱۶۲
خداوندعالم پر ایمان ، توحید اور انبیاء کی تعلیمات کے اصول اجمالی اور فطری طور پر تمام انسانوں کی سرشت میں موجود ہیں، انبیاء الھی نے ان کی آبیاری آب وحی سے کی ہے اور شرک و گمراھی کی جھاڑیوں کو انسان سے دور کیاہے:
یہ (پروردگار کا خالص دین) ایسی فطرت ہے جس پر خداوند عالم نے تمام انسانوں کو خلق کیاہے اور خلقت الھی میں کوئی تبدیلی نہیں ہے (امہ پہ فطرت تمام انسانوں میں ثابت ہے) یہ استوار دین ہے مگر اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے۔سورہ روم آیہ ۳۰
یہی دلیل ہے کہ تاریخ میں ہمیشہ دین، انسانوں کے در میان رہا اور مورخین کے قول کے مطابق بے دینی و لا دینی ایک امر نادرست اور استثنایی ہے یہاں تک کہ بہت سے ایسے نامور مکتب جو ایک دراز مدت تک سختیوں اور پرو پینگنڈوں کے باعث ضد دین رہے ہیں، مگر انہیں جیسے ہی آزادی حاصل ہوئی، دینداری کی طرف لوٹ آئے ہیں۔
ہاں اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ بہت سی گذشتہ قوموںکا ثقافتی پچھڑا پن سبب بتنا کہ ان کے عقاید اور دینی آداب خرافات اور بدعتوں کی نذر ہوجائیں اور اس مقام پر ، انبیاء الھی کا کام ایسی بدعتوں اور خرافات سے مقابلہ کرنا آئینہ فطرت انسان سے غبار باطل کو صاف کرنا ہوتا تھا۔
خداوند عالم نے انسانوں کی ہدایت کے لیے متعدد آسمانی کتابوںکو نازل کیا۔ جیسے صحف ابراہیم (علیه السلام) و نوح( علیه السلام) توریت و انجیل اور ان سب سے جامع قرآن مجید ہے، اگر یہ کتابیں نازل نہ ہوتیں تو انسان معرفت خدا اور عبادت پروردگار میں خطا کا شکار ہوجاتا اور تقوی و اخلاق و تربیت کے اصولوں اور انسانی سماج کے قوانین سے بے بھرہ رہ جانا۔
یہ آسمانی کتابیں باران رحمت کی طرح صفحہ دل بر نازل ہوئیں اور تقوی و اخلاق و معرفت ت خدا و علم و حکمت کے بذر کو انسانی سرشت میں کاشت کرنے کے بعد انھیں پرورش دے کر ثمرہ تک پہچایا۔آمن الرسول بما انزل الیہ من ربہ والمومنون کل آمن باللہ و ملائکتہ و کتبہ و رسلہ۔
ترجمہ: اے پیغمبر، جو کچھ اللہ کی طرف سے ان پر نازل ہوا، سب پر ایمان لائے اور تمام مومنین (بھی) خدا و ملائکہ اور تمام آسمانی کتب اور ان کے لانے والوں پر ایمان لائے. سورہ بقرہ آیہ ۲۸۵
اگرچہ صد افسوس کہ زمانہ گزرنے اور جاہلوں اور نا اھلوں کی دخالت کی وجہ سے بہت سی آسمانی کتاب تحریف کا شکار ہوگئیں اور ان میں باطل افکار مخلوط ہوگیے، مگر قرآن مجید بعض دلائل کی وجہ سے جن کا ذکر بعد میں آئے گا، تحریف سے محفوظ رہا اور آفتاب کی طرح ہر زمانہ اور صدی میں نور ا فشانی کرنا رہا اور قلوب کو منور کرتا رہا۔
قرآن مجید، پیغمبر اسلام (ﷺ)کے مہمترین معجزوں میں ہے، صرف فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے ہی نہیں بلکہ شیرینی بیان اور معانی کے بلیغ ہونے کے لحاظ سے بھی، ان کے علاوہ دوسرے مختلف جہات کے اعتبار سے بھی قرآن مجید اعجاز ی حیثیت رکھتاہے۔ جس کی شرح و تفصیل عقاید و کلام کی کتابوں میں موجود ہے۔
اسی دلیل کے سبب ہمارا عقیدہ ہے کہ کوئی قرآن کی مانند حتی اس کے ایک سورہ کی مثال نہیں لاسکتا ۔قرآن نے بارھا شک و تردید کرنے والوں کو دعوت مقابلہ دی مگر کسی میں اس کی نظیر لانے کی جرات پیدا نہ ہوسکی:
اے بنی کہہ دیجئیے کہ اگر انسان و جنات مل کر اس قرآن کا جواب لانا چاہیں تو بھی اس کا جواب نہیں لاسکتے اگرچہ وہ ایک دوسرے کے شریک بن جائیں.سورہ اسراء آیہ ۸۸
جو کچھ ہم نے اپنے بندہ (محمد ﷺ) پر نازل کیاہے اگر اس میں شک و تردید ہے تو (کم از کم) اس جیسا ایک سورہ لے آؤ اور اللہ کے سوا اس کام کے لیے اپنے گواہوں کو دعوت دو اگر تم سچے ہوسورہ بقرہ آیہ ۲۳
اور قرآن مجید، زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ نہ صرف یہ کہ پرانا نہیں ہوا بلکہ اس کے اعجازی نکات اور زیادہ آشکار، اور اس کی عظمت دنیا والوں پر روشن ہوتی جاتی ہے۔
امام صادق علیہ السلام ایک حدیث میں ارشاد فرماتے ہیں:ان اللہ تبارک و تعالی لم یجعلہ لزمان دوزمان و لناس دون ناس فھو فی کل زمان جدید و عند کل قوم غض الی یوم القیامة۔
خداوند متعال نے قرآن مجید کو ایک خاص زمانہ یا گروہ کے لیے قرار نہیں دیاہے۔ یہی سبب ہے کہ وہ ہر زمانہ میں تازہ اور ہر گروہ کے نزدیک قیامت تک کے لیے با طراوت رہے گا۔بحار الانوار، جلد ۲، صفحہ ۲۸۰، حدیث۴۴
برچسبها: نبوت انبیاء الہی اور کتب آسمانی, فلسفہ بعثت انبیاء, مقام شفاعت, مسئلہ توسل
برچسب:
نویسنده: باران کاشانی