خرید بک لینک

دین اسلام کی چوتھی اصل اور اعتقاد کی چوتھی بنیاد امامت ھے لغت میں امام کے معنی رھبر ا ور پیشوا کے ھیں اور اصطلاح میں پیغمبر اکرم کی وصایت وخلافت اور ائمہ معصومین کی رھبری مراد ھے، امامت شیعوں کی نظرمیں اصول دین میں سے ایک ھے اور امام کا فریضہ شیعوں کی نظر میں پیغمبر اسلام کے فرائض کی انجام دھی ھے۔

یعنی پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعثت کااور ائمہ کے منصوب ھونے کا مقصد ایک ھے اور جو چیز اس بات کا تقاضا کرتی ھے کہ اللہ رسول کو مبعوث کرے وھی چیز اس بات کا بھی تقاضا کرتی ھے کہ خد اامام کو بھی معین کرے تاکہ رسول کی ذمہ داریوںکو انجام دے سکے، امام کے بنیادی شرائط میں سے ھے کہ وہ بے پناہ علم رکھتا ھو اور صاحب عصمت ھو نیز خطا ونسیا ن سے دور ھو اور ان شرائط کے ساتھ کسی شخصیت کا پھچاننا وحی کے بغیر ناممکن ھے اسی لئے شیعہ معتقد ھیں کہ منصب امامت بھی ایک الٰھی منصب ھے اور امام کو خدا کی طرف سے معین ھو نا ۔

امامت کا ھو نا ضروری ھے

عقیده امامت شیعوں کے نزدید امر ضروری ھیں۔

1- امامت عامہ

دلیل لطف : شیعہ معتقد ھیں کہ بندو ں پرخداکا لطف اور اس کی بے پناہ محبت اور حکمت کا تقاضا ھے کہ پیغمبر اکرم کے بعد بھی لوگ بغیر رھبر کے نہ رھیں یعنی جو دلیلیں پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مبعوث ھونے کے لزوم پر دلا لت کر تی ھیں وھی دلیلیںاس بات کی متقاضی ھیں کہ امام کا ھو نابھی ضروری ھے تاکہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرح دنیا اورآخرت کی سعادت کی طرف لوگوں کی رھبری کر سکیں اوریہ بھی ممکن نھیں ھے کہ وہ مھربان خدا بنی نوع انسان کو پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد بغیر کسی ھادی اوررھبر کے چھو ڑدے۔

مناظرہ ھشام بن حکم

ھشام کا شمار امام جعفر صادقں کے شاگردو ںمیں ھے : کھتے ھیں میں جمعہ کوبصرہ گیااور وھاں کی مسجد میں داخل ھوا عمروبن عبید معتزلی (عالم اھل سنت) وھاں بیٹھے تھے اور ان کو لوگ گھیرے میںلئے ھوئے سوال وجواب کر رھے تھے میں بھی ایک گوشہ میں بیٹھ گیا اورکھا :میں اس شھر کانھیں ھوں کیا اجازت ھے کہ میں بھی سوال کروں ؟کھا جو کچھ پوچھنا ھو پوچھو: میںنے کھا آپ کے پاس آنکھ ھے ؟ اس نے کھا دیکھ نھیں رھے ھو یہ بھی کوئی سوال ھے۔ ؟

میں نے کھا میرے سوالات کچھ ایسے ھی ھیں کھا اچھا پوچھو ھر چند کہ یہ بیکارھے انھو ں نے کھا جی ھاں آنکھ ھے ،میں نے کھا ان آنکھو ں سے کیا کام لیتے ھیں؟ کھا دیکھنے والی چیزیں دیکھتا ھو ں ا قسام او ررنگ کو مشخص کرتا ھو ں ، میںنے کھا زبان ھے ؟کھا جی ھا ں ، میں نے کھااس سے کیا کرتے ھیں؟ جواب دیا کہ اس سے کھانے کی لذت معلو م کرتاھوں میں نے کھا ناک ھے ؟کھنے لگے جی ھا ں میں نے کھا اس سے کیا کرتے ھیں؟ کھا خوشبو سونگھتا ھو ں او راس سے خوشبو اور بدبو میں فرق کرتا ھوں میں نے کھا کان بھی ھے ؟جواب دیا جی ھا ں ،میں نے کھا اس سے کیا کرتے ھیں؟ جو اب دیا اس سے مختلف آوازوں کو سنتا ھو ں او ر ایک دوسرے کی تشخیص دیتا ھو ں، میں نے کھا اس کے علا وہ قلب (عقل ) بھی ھے ؟کھا جی ھا ں۔ میں نے پوچھا اس سے کیا کرتے ھیں؟جواب دیا اگر ھما رے اعضاء وجوارح مشکوک ھو جاتے ھیں تواس سے شک کو دور کرتا ھو ں ۔

قلب اور عقل کاکام اعضا ء وجوارح کو ھدایت کرنا ھے ،ھشام نے کھا:میں نے ان کی بات کی تائید کی کھا بالکل صحیح۔ خدانے عقل کو اعضاء وجوارح کی ھدایت کے لئے خلق کیااے عالم! کیایہ کھنا صحیح ھے کہ خدانے آنکھ کان کو اور دوسرے اعضاء کو بغیر رھبر کے نھیں چھوڑااور مسلمانو ں کو پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد بغیر ھادی ورھبر کے چھوڑ دیا تاکہ لوگ شک و شبہ اور اختلا ف کی باعث فنا ھو جائیں کیاکوئی صاحب عقل اس بات کو تسلیم کرے گا ؟!۔

ھدف خلقت

قرآن میں بھت سی آیتیں اس بات پر دلالت کرتی ھیں« ھَوَ الَّذِی خَلَق لَکُم مَافِی الاٴَرضِ جَمِیعاً»وہ خدا وہ ھے جس نے زمین کے تمام ذخیرہ کو تم ھی لوگو ں کے لئے پیدا کیا۔[1] «سَخَّرَ لَکُمُ اللَّیلَ وَالنَّھارَ والشَّمسَ وَالقَمَر»”اور اسی نے تمھارے لئے رات و دن اورآفتاب وماھتاب سب کو مسخر کردیا “۔[2]

چونکہ انسان کی خاطر یہ دنیا خلق ھوئی ھے اور انسان عبادت اور خدا تک پھونچنے کے لئے خلق ھو اھے تاکہ اپنے حسب لیاقت کمال تک پھونچ سکے، اس مقصد کی رسائی کے لئے رھبر کی ضرورت ھے اور نبی اکرم کے بعدامام اس تکامل کا رھبر وھادی ھے ۔

مھربا ن اور درد مند پیغمبر او ر مسئلہ امامت :

«لَقَد جَا ءَ کُم رَسُولُ مِن اٴَنفُسِکُم عَزیزُ عَلَیہ مَا عَنِتُم حَرِیصُ عَلَیکُم بِالمُوٴمنینَ رَوٴُفُ رَحِیمُ »یقینا تمھا رے پاس وہ پیغمبر آیا ھے جو تمھیں میں سے ھے اور اس پر تمھاری ھر مصیبت شاق ھو تی ھے وہ تمھاری ھدا یت کے بارے میں حرص رکھتا ھے اور مومنین کے حال پر شفیق اور مھربان ۔[3]

پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کبھی کسی کا م کے لئے کچھ دن کے واسطے مدینہ سے باھر تشریف لے جاتے تھے چاھے مقصد جنگ ھو یا حج، لوگو ں کی سرپرستی کے لئے کسی نہ کسی کو معین کر جاتے تھے تاکہ ان کی راھنمائی کر سکے آپ شھروں کے لئے حاکم بھیجتے تھے لہٰذا وہ پیغمبر جولوگوں پر اس قدر مھربان ھوکہ بقول قرآن ،اپنی زندگی میںکبھی بھی حتی کہ تھوڑی مدت کے لئے بھی لوگوں کو بغیر رھبر کے نھیں چھوڑا ،تو یہ بات بالکل قابل قبول نھیں کہ وہ اپنے بعد لوگو ں کی رھبری کے لئے

امامت و جانشینی کے مسئلہ میں تساھلی وسھل انگا ری سے کام لیں گے اور لوگوں کو سرگردان اور بغیر کسی ذمہ داری کے بے مھار چھوڑ دیںگے ۔

عقل وفطرت کھتی ھے کہ یہ کیسے ممکن ھے کہ وہ پیغمبر جس نے لوگوں کے چھوٹے سے چھو ٹے مسائل چاھے مادی ھو ں یا معنوی سبھی کو بیان کر دیا ھو اور اس نے سب سے اھم مسئلہ یعنی رھبری اور اپنی جانشینی کے تعین میں غفلت سے کام لیا ھو اورواضح طور پر لوگوں سے بیان نہ کیاھو!۔

عصمت اورعلم نیزامام کی تعیین کاطریقہ

عقل وسنت نیزقرآن کی نظر میں عصمت امامت کے لئے بنیادی شرط ھے اورغیر معصوم کبھی اس عھدہ کا مستحق قرار نھیں پاسکتا، نبوت کی بحث میں جن دلیلوں کا ذکر انبیاء کی عصمت کے لئے لازم ھونے کے طور پر پیش کیا گیاھے ان کو ملاحظہ فرمائیں۔

قرآن اور عصمت اما م

«وَاِذابتلیٰ اِبراھیمَ رَبُّہُ بِکلماتٍ فَاٴَتَمَّھُنَّ قالَ اِنِّی جَاعِلُکَ للنَّاسِ اِمَاماً قَالَ وَمِن ذُرِّیَّتِی قَالَ لَا یَنالُ عَھدیِ الظَّالَمِینَ»اور اس وقت کو یاد کرو جب خدا نے چند کلمات کے ذریعہ ابراھیم کاامتحان لیا اور انھو ںنے پوراکردیا تو اس نے کھا کہ ھم تم کو لوگوں کاامام اورقائد بنا رھے ھیں انھوںنے عرض کیا کہ کیا یہ عھدہ میری ذریت کو بھی ملے گا؟ارشاد ھو اکہ یہ عھدئہ امامت ظالمین تک نھیں پھونچے گا ۔[4]

ظالم اور ستمگر کون ھے ؟

اس بات کو واضح کرنے کے لئے کہ اس بلند مقام کاحقدار کو ن ھے او ر کون نھیں ھے یہ دیکھنا پڑے گا کہ قرآن نے کسے ظالم کها ھے ۔؟

قرآن نے تین طرح کے لوگو ں کو ظالم شمار کیاھے ۔

۱۔ جولوگ خدا کا شریک مانیں «یَا بُنَيَّ لَاتُشرِک باللَّہِ اِنَّ الشِّرکَ لَظُلمُ عَظِیمُ» لقمان نے اپنے بیٹے سے کھا:بیٹا خبردار کسی کو خد ا کاشریک نہ بنانا کیونکہ شرک بھت بڑا ظلم ھے۔ [5]

۲۔ ایک انسان کادوسرے انسان پر ظلم کرنا:«اِنَّما السَّبیلُ عَلیٰ الَّذینَ یَظلِمُونَ النَّاسَ وَیَبغُونَ فِی الاٴَرضِ بِغَیرِ الحَقِّ اٴُولئِک لَھُم عَذَابُ اٴلِیمُ»الزام ان لوگوں پر ھے جولوگوں پر ظلم کرتے ھیں اور زمین میں ناحق زیادتیاں پھیلا تے ھیں انھیں لوگوں کے لئے درد ناک عذاب ھے۔[6]

۳۔ اپنے نفس پر ظلم کرنا:«فَمِنھُم ظَالمُ لِنَفسِہِ وَمِنھُم مُقتَصِدُ وَمِنھُم سَابِقُ بِالخَیراتِ» ان میں سے بعض اپنے نفس پر ظلم کرنے والے ھیں اور بعض اعتدال پسند ھیں اور بعض خداکی اجازت سے نیکیوں کی طرف سبقت کرنے والے ھیں ۔[7]

قرآن میں ان تینوں پر ظلم کااطلاق ھواھے لیکن حقیقت میں پھلی اوردوسری قسم کے ظلم کااطلاق بھی اپنے نفس ھی پر ھوتاھے ۔

نتیجہ :چار طرح کے لوگ ھیں :

۱۔ جوابتداء زندگی سے لے کر آخر عمر تک گناہ اور معصیت کے مرتکب ھوتے رھے۔

۲۔ جنھو ں نے ابتداء میں گناہ کیا،لیکن آخری وقت میں توبہ کر لیا اورپھر گناہ نھیں کرتے ۔

۳ کچھ ایسے ھیں جو ابتدا میں گناہ نھیں کرتے لیکن آخری عمر میں گناہ کرتے ھیں۔

۴۔ وہ لوگ جنھوں نے ابتداء سے آخر عمر تک کوئی گناہ نھیں کیا۔

قرآ ن کی رو سے پھلے تین قسم کے لوگ مقام امامت کے ھرگز حقدار نھیں ھوسکتے ،کیو نکہ ظالمین میں سے ھیں اور خدا نے حضرت ابراھیم سے فرمایاکہ ظالم اس عھدہ کا حقدار نھیں بن سکتا، لہٰذا مذکورہ آیة سے یہ نتیجہ نکلاکہ امام او ررھبر کو معصوم ھونا چاہئے اور ھر قسم کے گناہ او رخطا سے پاک ھو اگر ان تمام واضح حدیثوں کو جو رسول اسلام سے امام علی(علیہ السلام) اور گیارہ اماموں کی امامت کے سلسلہ میں ھیں، یکسره نظر اندا ز کر دیا جائے، تب بھی ظالم افراد قرآن کی رو سے مسند خلا فت کے مستحق او رپیغمبر کی جانشینی کے قابل بالکل نھیں تھے کیو نکہ یہ افراد ظالم کے حقیقی مصداق ھیں اور خدا نے فرمایا ھے کہ ظالموں کو یہ عھدہ نھیں مل سکتا!

عصمت اهل بیت علیهم السلام اور آیہ تطھیر

امام کا معصوم ھونا ضروری ھے ،اب یہ دیکھیں کہ معصوم کو ن ھے ؟«اِنَّمَا یُرِیدُ اللَّہُ لِیُذھِبَ عَنکُمُ الرِّجسَ اٴَھَلَ البَیتِ وَیُطھِّرکُم تَطھِیراً»[8] (بس اللہ کا ارادہ یہ ھے کہ اے اھل بیت! تم سے ھر برائی دور رکھے اوراس طرح پاک وپاکیزہ رکھے جو پاک وپاکیزہ رکھنے کا حق ھے۔

اھل بیت سے مراد کون ؟

شیعہ اور سنی کی بھت سی متواتر حدیثیں اس بات پر دلا لت کرتی ھیں کہ آیة تطھیر رسول اکرم اور اھل بیت علیھم السلام کی شان میں نازل ھوئی ھے یہ حدیثیں اھلسنت کی معتبر کتا بو ں میں موجود ھیں جیسے صحیح مسلم ، مسنداحمد، درالمنثور،سنن ترمذی وغیرہ اور شیعوں کی لا تعداد کتب میں موجود ھیں۔

انس بن مالک کھتے ھیں کہ : رسو ل خد ا چھ مھینے تک نماز کے وقت جب جناب زھرا (سلام الله علیها) کے گھر پھونچتے تھے فرماتے تھے اے اھل بیت وقت نماز ھے « اِنَّمَایُرِیدُ اللَّہُ لِیُذھِبَ عَنکُمُ الرِّجسَ اٴَھَلَ البَیتِ وَیُطھِّرکُم تَطھِیرا»[9]

ابن عباس بیان کرتے ھیں : کہ رسول خدا نو مھینے تک وقت نماز جنا ب امیر علیہ السلام کے دروازے پر آکر فرماتے تھے سلام علیکم یا اٴَھلَ البَیت:« اِنَّمَا یُرِیدُ اللَّہُ لِیُذھِبَ عَنکُمُ الرِّجسَ اٴَھَلَ البَیتِ وَیُطھرّکُم تَطھِیراً»[10]

پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کافی دن اس پر عمل کرتے رھے تاکہ اھل بیت(علیہ السلام) کی پھچان ھوجائے اور ان کی اھمیت لوگوں پر واضح ھوجائے ۔

حضرت علی نے ابوبکر سے فرمایا تمھیں خداکی قسم ھے بتاؤ آیة تطھیر میرے اور میری شریک حیات اور میرے بچوں کی شان میں نازل ھو ئی ھے یا تمھارے اورتمھارے بچوں کے لئے ؟

جواب دیا :آپ اور آپ کے اھل بیت کی شان میں نازل ھو ئی ھے۔ [11]

ایک اعتراض اور اس کا جواب

لوگو ں کاکھنا ھے کہ آیة تطھیر پیغمبر کی ازواج کی شان میں نازل ھوئی ھے کیونکہ اس کے پھلے اور بعد کی آیات پیغمبر کی ازواج کے سلسلے میں ھے یا کم ازکم پیغمبر کی ازواج بھی اس میں شامل ھیں ۔اسی لئے یہ ان کی عصمت کی دلیل نھیں ھوسکتی ھے کیونکہ کوئی بھی پیغمبر کی ازواج کومعصوم نھیں مانتا ھے۔

جواب ۱۔ یہ اعتراض اور شبہ نص کے مقابلہ میں اجتھا د کرناھے کیونکہ بے شمار روایتیں اس سلسلے میں آئی ھیں جوتواتر کے حد تک ھیں کہ آیة تطھیر پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فاطمہ زھرا (سلام الله علیها) علی (علیہ السلام) ، وحسنین(علیہ السلام) کی شان میں نازل ھو ئی ھے ۔

جواب ۲۔ اگر آیة تطھیر پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج کی شان میں ھو تی تو مخاطب مونث ھوناچاہئے نہ کہ مذکر ،یعنی آیت اس طرح ھو نی چاہئے ” اِنَّمَایُرِیدُ اللَّہُ لِیُذھِبَ عَنکُنَّ الرِّجسَ اٴَھَلَ البَیتِ وَیُطھِّرکُنَّ تَطھِیرا“.

قرآن میں علم امام کے بارے میں اشارہ

امام کا علم اھل زمین کے تمام لوگو ں سے زیادہ ھو، تاکہ وہ رھبری کا حقدار بن سکے وہ تمام دلیلیں جو امام کی ضرورت کے لئے ھم نے بیان کی ھیں، وھی یھاں بھی امام کے افضل واعلم ھونے پر دلالت کر تی ھیں، قرآن نے اس کی طرف اس طرح اشارہ کیا ھے :«اٴَفَمَنْ یَھدِی اِلیٰ الحَقِّ اٴَحَقُ اٴنْ یُتَّبَعَ اٴمَنَ لَایَھدِّیِ اِلَّا اٴنْ یُھدیٰ فَما لَکُمْ کَیفَ تَحکُمُونَ»او رجو حق کی ھدایت کرتا ھے وہ واقعا پیروی کے قابل ھے یا جو ھدایت کرنے کے قابل بھی نھیں ھے مگر یہ کہ خود اس کی ھدایت کی جائے آخر تمھیں کیا ھوگیاھے اورتم کیسے فیصلے کر رھے ھو۔[9]

اما م کے تعیین کا طریقہ

جب امام کے صفات اور کمالات کوپھچان لیاتو اب یہ دیکھنا ھے کہ ایسے امام کو کس طریقہ سے معیّن ھونا چاہئے۔

آج کل کی دنیا میں عھدہ دار کے چننے کابھترین طریقہ انتخا بات ھے البتہ یہ چناوٴ را ہ حل تو ھوسکتا ھے لیکن ھمیشہ راہ حق نھیں ھوتا کیونکہ چناؤ واقعیت کو تبدیل نھیں کر سکتا نہ حق کو باطل اور نہ باطل کو حق بنا سکتا ھے.

لہٰذا کبھی بھی اکثریت حق کی دلیل اور اقلیت باطل کی دلیل نھیں بن سکتی ھے، دوسری طرف قرآن نے تقریبا ً اسّی مقامات پر اکثریت کی مذمت کی ھے ارشاد ربّ العزّت ھورها ھے:«وَاٴنْ تُطِع اٴَکثَرمَنْ فیِ الاٴرضِ یُضلُّوکَ عَن سَبِیلِ اللَّہِ اِن یَتَّبِعُونَ اِلاَّالظَّنَّ وَاِن ھُم اِلَّایَخرصُوُنَ»اور اگر آپ روئے زمین کی اکثریت کا اتباع کریں گے تویہ راہ خدا سے بہکا دیں گے یہ صرف گمان کا اتباع کرتے ھیں اور صرف اندازوں سے کام لیتے ھیں۔[12]

لہٰذا ضروری ھے کہ وہ ھرگز گناہ وخطا سے معصوم ھواور تمام لوگوں میں افضل واعلم ھو اور ایسے شخص کو لوگ نھیں چن سکتے کیونکہ لوگوں کو کیا معلوم کہ کو ن شخص صاحب عصمت اور علوم الٰھی کاجاننے والا اوردوسری فضیلتوں کامالک ھے ۔

امام کیسے معیّن ھوگا ؟

امامت وپیشوای یعنی کار رسالت کوانجام دینا،امام اوررسول میں بس فرق یہ ھے کہ رسول بانی شریعت اور صاحب کتاب ھوتاھے اور امام اس کے جانشین کی حیثیت سے محا فظ شریعت اور اصول دین وفروع دین کابیا ن کرنے والا اورنبوت کی تمام ذمہ داریوں کونبھانے والاھوتا ھے جس طرح نبی کاانتخاب خدا کے هاتھ میں ھے، اسی طرح امام کاانتخاب بھی خدا کی جانب سے ھوناچاہئے جیسا کہ قرآن میں ھے کہ امامت عھدخداوندی ھے اورخدا کاعھدہ انتخاب اور چناؤ سے معین نھیں ھوسکتا کیونکہ چناؤ اورشوری لوگوں سے مربوط ھے۔

جن دوآیتوں میں مشورت کا ذکر کیاھے وھاں لفظ امر آیا ھے «وَاَٴمرُھُم شُوریٰ بَینَھم »«وشَاورْھُم فیِ الاٴَمرِ»[13] ان دو آیتوں میں جومشورت کے لئے کھاگیاھے وہ معاشرتی امور لوگو ں کے لئے ھے اور یہ خدا کے عھدوپیمان میں شامل نھیں ھو گا ارشاد ھوتا ھے«و َرَبُّک یَخلُقُ مَا یَشاءُ وَ یَختَارُ مَا کَانَ لَھُمُ الخِیَرةُ»اور آپ کا پرور دگار جسے چاھتا ھے پیدا کرتاھے اور پسند کرتاھے[14] ۔

مولا ئے کائنات ں اور ان کے گیارہ فرزندوںکی امامت وولایت کااثبات:

ھم گذشتہ بحثوں میں امام کی صفات اور ضروری خصوصیات سے آگاہ ھوچکے ھیں لہٰذا اب ھم کو یہ تحقیق کرناچاہئے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد ان کا حقیقی جانشین کون ھے اوریہ صفات کن میں پائے جا تے ھیں؛ یه عقلی ونقلی دلیلوں سے اثبات ھوسکے تاکہ جولوگ حق وحقانیت سے دور ھیں ان کی ھدایت کرسکیں۔

پہلی دلیل :دلیل عقلی

دومقدمہ اور ایک نتیجہ

۱۔ مولائے کائنات تمام انسانی فضائل وکمالات کے حامل تھے جیسے علم تقوی ،یقین ،صبر ، زھد ، شجاعت ، سخاوت ،عدالت ،عصمت ، اور تمام اخلاق حمیدہ یھاں تک بلا شک وشبہہ تمام کمالات میں سب سے افضل وبرتر ھیں اور یہ فضائل شیعہ اور سنی دونوں کی کتابوں میں بھرے پڑے ھیں ۔

۲۔عقل کی روسے مفضول کوفاضل پر ترجیح دینا قبیح ھے اور جو بھی مذکورہ فضائل کاحامل نھیں ھے اس شخص پر جو ان فضائل کاحامل ھے ترجیح دینا قبیح ھے۔

نتیجہ:حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالب(علیہ السلام) ھی پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے حقیقی جانشین ھیں۔

دوسری دلیل: قرآن اور امامت

1-آیة ولایت

«اِنَّمَا وَلیکُمُ اللَّہُ وَرَسُولُہُ وَالَّذِینَ آمُنوا الَّذِینَ یُقِیمُونَ الصَّلٰوةَ وُیُوٴتُونَ الزَّکٰوةَ وَھُم رَاکِعُونَ » ایمان والو تمھارا ولی بس اللہ ھے او ر اس کا رسول اور وہ صاحبان ایمان جونماز قائم کرتے ھیں اورحالت رکوع میں زکاة دیتے ھیں۔[15]

آیة کا شان نزول

آیت سے خدا اورسول کی ولا یت میں کسی کو شک نھیں لیکن تیسری ولایت”والذین آمنوا“کے بار ے میں شیعہ اور سنی دونو ں کے یھا ں بے شمار حدیثیں پائی جاتی ھیں کہ یہ آیة مولا ئے کا ئنات کی شان میں نازل ھوئی ھے اس وقت کہ جب انھو ںنے حالت رکوع میں اپنی انگو ٹھی سائل کو دے دی شیعوں میں اس سلسلہ میں کوئی اختلاف نھیں اوراھل سنت کے علماء میں سے فخر رازی نے تفسیرکبیر میں،زمخشری نے کشاف میں ، یھاں تک کہ تفتازانی اورقوشجی نے اتفاق مفسرین کا دعوی کیا ھے ۔

دواعتراض اور انکا جواب

اعتراض اول : بعض اھل سنت کا کھناھے کہ ولی کے معنی دوست اورساتھی کے ھیں نہ کہ رھبر وولی مطلق کے ۔

جو اب :

الف )پھلی بات تویہ کھنا ھی نص آیة اورظاھر کے خلاف ھے اس سے ھٹ کر ولی کے معنی عرف عام میں ولی مطلق ،اور اولی بہ تصرف کے ھیں اور دوسرے معنی میں استعمال کے لئے قرینہ کی ضرورت ھے چونکہ اولی کا لفظ آیت میں« النَّبيُّ اٴَولیٰ بِالمُوٴمنِینَ مِن اٴنفُسھِم»[16] کا لفظ حدیث غدیر میں ”من کنت مولاہ“ ولایت مطلق پرواضح طور پر دلا لت کرتا ھے ۔

ب) آیة ولایت میں لفظ ”انما--“ کے ذریعہ انحصار ھے اور دوستی صرف خدا ورسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور علی(علیہ السلام) ھی پر منحصر نھیں ھے ۔بلکہ تمام مومنین ایک دوسرے کے دوست ھیں جیسے کہ خدا وند عالم نے فرمایا« المُوٴمنُون والموٴمنات بعضھم اٴولیاءُ بَعضٍ»اب چونکہ دوستی کا انحصار فقط خدا اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وعلی (علیہ السلام) سے مختص نھیں ھے۔[17] بلکہ اس کاتمام مومنین سے ھے آیہ اِنَّما وَلیُّکُم اللّہ (میں انحصار کا حکم ھے لہٰذا ولا یت کے معنی رھبر وولی مطلق کے ھیں۔

اعتراض دوّم :بعض متعصب اھل سنت نے اعتراض کیاکہ مولائے کائنات جب نماز میں اتنا محو رھتے تھے کہ حالت نماز میں تیر نکلنے کابھی انھیں پتہ نھیں چلتا تھا تو کس طرح ممکن ھے کہ سائل کے سوال کو سن کر اس کی طرف متوجہ ھوئے ھوں۔

جواب: یقینا مولا ئے کائنات حالت نماز میں مکمل طور سے خدا کی طرف دھیان رکھتے تھے، اپنے آپ اور ھر مادی شی ٴ سے جو روح عبادت کے منافی ھوتی تھی بیگانہ رھتے تھے ۔لیکن فقیر کی آواز سننا اور اس کی مدد کرنا اپنی طرف متوجہ ھونا نھیں ھے بلکہ عبادت میں غرق ھو نے کی دلیل ھے دوسرے لفظوں میں یوں کھا جائے کہ آپ کا یہ فعل عبادت میں عبادت ھے اس کے علاوہ عبادت میں غرق ھونے کامطلب یہ بھی نھیں ھے کہ اپنے اختیارات کھو بیٹھیں یا بے حس ھو جا ئیں بلکہ اپنے اختیار کے ذریعہ اپنی توجہ اور وہ چیز جوراہ خدا میں سد راہ ھے اس سے اپنے آپ کو الگ کرلیں۔

یھا ں نمازبھی ایک عبادت ھے اور زکوة بھی ،اور دونوں خداکی خوشنودی کے راستے ھیں ،لہٰذا مولائے کائنات کومتوجہ ھونا صرف خداکے لئے تھا اس کی دلیل خود آیت کانازل ھو نا ھے ،جو تواتر سے ثابت ھے ۔

2-آیه اطاعت اولی الامر:

«یَااٴیُّھا الَّذینَ آمَنُوا اٴَطِیعُوا اللَّہَ وَاٴطِیعُوا الرَّسُولَ وَاٴُوليِ الاٴمرِ مِنکُم» ”ایمان والواللہ کی اطاعت کرو اوراس کے رسول اورصاحبان امر کی اطاعت کرو جو تم میں سے ھیں“۔[18]

اس آیت میں صاحبان امرکی اطاعت بغیر کسی قید و شرط کے خد ااوررسول کے اطاعت کے ساتھ واجب قرار دیاھے شیعوں کانظریہ ھے کہ اولی الامر سے مراد بارہ امام معصوم ھیں اوراھل سنت سے بھی روایت پائی جاتی ھے کہ اس سے مراد امام معصوم ھیں۔

3- آیه انذار اورحدیث یوم الدار

پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بعثت کے تیسرے سال میں حکم ھوا کہ دعوت اسلا م کو علی الاعلان پیش کریں :وَاٴنذِر عَشِیرَتَکَ الاٴَقرَبِین:َ [19](اپنے قریبی رشتے داروں کوانذار کرو ،ڈراؤ ) اس حکم کے ساتھ پیغمبر اسلام نے اپنے رشتے داروں کو جناب ابوطالب کے گھر میں اکٹھا کیا اورکھانے کے بعد فرمایا :اے عبد المطلب کے فرزندو! خد اکی قسم میں عرب میں کسی کو نھیں جانتاکہ اپنی قوم وقبیلہ کے لئے اس سے بھترچیز جو میں پیش کر رھا ھو ں اس نے پیش کی ھو ، میں دنیااور آخرت کی فلاح وبھبودی تمھارے لئے لایاھوں اورخدا نے حکم دیا ھے کہ میں تمھیں اس کی توحید اور اس کی وحدانیت اوراپنی رسالت کی طرف دعوت دوں،تم میں سے کون ھے؟ جو اس سلسلے میں میری مددکرے گاتاکہ وہ میرا بھائی میرا ولی وجانشین بن سکے ۔

کسی نے اس جانب کو ئی توجہ نھیں دی ۔پھر مولائے کائنات کھڑے ھوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ میں حاضر ھو ں ،اس سلسلہ میںآپ کا ناصر ومددگار ھوں یھاں تک تین مرتبہ پیغمبر نے اس جملہ کی تکرار کی،اور علی (علیہ السلام) کے علاوہ کسی نے کوئی جواب نھیں دیا ، اس وقت پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : «اِنَّ ھذا اٴخیِ وَوصییِّ وخلیفتی فیکم فاسمعوا لہ واٴطیعوہ » بیشک یہ میرابھائی ھے تم لوگوںمیں میراوصی وجانشین ھے اس کی باتو ں کو سنو اور اس کی اطاعت کرو۔

4-مولا ئے کا ئنا ت کی امامت اور آیة تبلیغ

«یَااٴَیُّھا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَااٴُنِزلَ اِلیکَ مِنْ رَبِّکَ وَاِنْ لَمْ تَفعَل فَمَا بَلَّغتَ رِسَالَتہُ وَاللَّہُ یَعصِمُکَ مِنَ النَّاسِ اِنَّ اللَّہ لَا یَھدِی القَومَ الکَافِرِین»

اے پیغمبر!ٍ آپ اس حکم کوپھنچادیں جوآپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیاگیا ھے اور اگر آپ نے یہ نہ کیا تو گویا اس کے پیغام کو نھیں پھنچایا اور خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا کہ اللہ کافروں کی ھدایت نھیں کرتا ۔[20]

خطاب کا انداز بتا رھا ھے کہ کو ئی اھم ذمہ داری ھے کہ جس کے چھو ڑنے سے رسالت ناقص ھو جائیگی اور یہ آیت یقینا توحید یا جنگ یادوسری چیزوں کے واسطے نھیں تھی چونکہ اس آیت کے نازل ھو نے سے پھلے یہ تمام مسائل حل ھو چکے تھے کیونکہ یہ آیت پیغمبر کی زندگی کے آخری وقت میں نازل ھو ئی ھے بغیر کسی شک کے یہ آیت مسئلہ امامت اور جانشین پیغمبر سے متعلق ھے۔ یھا ںتک کہ اھل سنت کے بے شمار علماء ،مفسرین اور مورخین نے اس بات کا اعتراف کیا ھے کہ مذکو رہ آیت واقعہ غدیر اور مولا ئے کا ئنا ت کے لئے نازل ھوئی ھے مرحوم علامہ امینی نے اپنی کتاب مقدس الغدیر میں حدیث غدیرکو ۱۱۰ صحابہ سے اور ۳۶۰ بزرگ علماء اور مشھو ر اسلا می کتابو ں سے نقل کیاھے اورکسی نے اس حدیث کے صدور پر شک نھیں کیا ھے اگر آیة تبلیغ اور حدیث غدیر کے علا وہ کوئی دوسری آیت یا حدیث نہ بھی پا ئی جاتی تب بھی مولائے کا ئنات کی خلا فت بلا فصل کو ثابت کرنے کے لئے یھی دوآیتیں کا فی تھیں اس کے باوجود بے شمار آیتیں مولا ئے کا ئنا ت اور ان کے فرزندوں کی امامت کے سلسلہ میں نازل ھو ئی ھیں اورھمارا اعتقاد ھے کہ پوراقرآن مفسر اھل بیت ھے اور اھل بیت مفسر قرآن ھیں اور حدیث ثقلین کی نظر سے یہ کبھی بھی ایک دوسرے سے جدا نھیں ھو سکتے ۔

تیسری دلیل: مولا ئے کا ئنات کی امامت اور حدیث غدیر

پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۱۰ھ میں مکہ کی طرف حج کے قصد سے گئے یہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا آخری حج تھا لہٰذا تاریخ میں اسے حجة الوداع بھی کھتے ھیں اس سفر میں پیغمبر کے ساتھ ایک لا کھ بیس ہزار صحابی تھے مدینہ کی طرف واپسی پر ۱۸ ذی الحجہ کو غدیر خم (مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ ھے ) میں جبرئیل نازل ھو ئے او راس آیت کو پیش کیا «یَااٴَیُّھاالرَّسُولُ بَلِّغْ مَااٴُنِزلَ اِلیک مِنْ رَبِّک وَاِنْ لَمْ تَفعَل فَمَا بَلَّغتَ رِسَالَتہُ وَاللَّہُ یَعصِمُک مِنَ النَّاس اِنَّ اللَّہ لَا یَھدِی القَومَ الکَافِرِین»

قبل اس کے کہ مسلمان یھا ں سے جداھو ں پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سب کو رکنے کاحکم دیا جوآگے بڑھ گئے تھے انھیں پیچھے بلا یا اورجو پیچھے رہ گئے تھے ان کا انتظارکیا بھت گرم اور جھلسا دینے والی ھوا چل رھی تھی مسلمانوں نے نماز ظھر پیغمبر اسلام کی امامت میں ادا کی، نماز کے بعد آنحضرت نے طویل خطبہ پڑھااور اس کے ضمن میں فرمایا :میں جلد ھی خدا کی دعوت پر لبیک کھنے والا ھوں اور تمھارے درمیان سے چلاجاؤ ں گا پھر فرمایا :اے لوگوں! میری آواز سن رھے ھو سب نے کھا ،ھاں ، پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :یَا اٴَیُّھاالنَّاس مَن اٴولَیٰ النّاس بالمُوٴمنین من اٴ نفسھم اے لوگو! مومنین کے نفوس پر کون زیادہ حقدار ھے ، سب نے ایک آواز ھوکر کھا خدا اوراس کا رسول بھتر جانتا ھے حضرت نے فرمایا خدا میرا رھبر ومولاھے اور میں مومنین کارھبر ومولاھوں او رمومنین پر ان سے زیادہ میراحق ھے پھر مولا ئے کا ئنا ت کو ھاتھو ں پہ بلند کیا اور فرمایا: ”مَنْ کنت مولاہ فعليِّ مولاہ“جس کا میں مولا ھوں اس کے یہ علی مولا ھیں اس جملہ کو تین بار دھرایا پھر آسمان کی طرف سر کو بلند کیا اور فرمایا:”اللَّھمَّ والِ مَن وَالاہ وعاد مَنْ عاداہ وانصر من نصرہ واخذل مَن خذلہُ“خدا یا! تو اس کو دوست رکھ جو اس (علی )کو دوست رکھے تو اس کی مدد کر جو اس کی مددکرے تواس کو رسواوذلیل کر جوان کی عزت نہ کرے پھر فرمایا : تمام حاضرین غائبین تک یہ خبر پھونچا دیں ابھی مجمع چھٹا نھیں تھا کہ جبرئیل نازل ھو ئے اور اس آیت کی پیغمبر پر تلا وت کی :«الیَومَ اٴکمَلتُ لَکُم دِینَکُم وَاٴَتمَمتُ عَلَیکُم نِعمَتيِ وَرَضِیتُ لَکُمُ الاِسلَامَ دیناً»”آج میں نے تمھارے لئے دین کوکامل کر دیا ھے اور اپنی نعمتوں کوتم پر تمام کر دیاھے او رتمھارے دین اسلام سے راضی ھوگیا“۔[21]

اسی وقت پیغمبر اسلام(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ بھت بڑا ھے اللہ بھت بڑا ھے دین کو کامل کرنے ،اور اپنی نعمتوں کے تمام کرنے اورمیری رسالت پر راضی ھونے ،اور میرے بعد علی(علیہ السلام) کی ولایت پر راضی ھو نے پر ، اسی وقت تمام لوگ مولائے کائنا ت کو اس مقام و منزلت پر مبا رک باد پیش کرنے لگے یھاں تک عمر نے لوگو ں کے درمیان مولا ئے کا ئنا ت سے کھا: ”بخِِ بخِِ لَک یابنَ اٴَبیِ طالب اٴَصبحتَ واٴَمسیتَ مولایِ ومولیٰ کُلّ مُوٴمن وموٴمنة“مبارک ھو مبارک اے ابو طالب کے بیٹے آپ کی صبح وشام اس حالت میں ھے کہ میرے اور ھر مومن اور مومنہ کے مولا ھیں اس حدیث کو مختلف الفاظ میں کتاب غایة المرام میں ۸۹ سند کے ساتھ اھل سنت سے اور۴۳ سند کے ساتھ شیعہ سے نقل کیاھے اوراس سلسلہ میں بھترین کتاب جولکھی گئی ھے وہ ”الغدیر “ھے جسے علامہ امینی نے بے انتھا زحمتوں کے بعد لبا س وجود عطا کیا ھے ۔

لفظ مولا کے معنی پر اعتراض اور اس کا جو اب

جب بعض نے یہ دیکھا کہ حدیث کی سند انکا ر کے قابل نھیں تو لفظ مولا کے معنی میں شک ایجاد کیا اور کھنے لگے کہ یہ دوست کے معنی میں ھے ۔

جو اب : مختصراً چهار دلیلوں کی بنا پر لفظ مولی صرف ولا یت ورھبری کے معنی میں ھے اور دوست کے معنی ھر گز نھیں ھو سکتے ۔

۱۔ خو د پیغمبر اسلام نے علی (علیہ السلام) کے تعارف سے قبل فرمایا :”مَنْ اٴَولیٰ النّاس بالموٴمنین مِن اٴنفسھم“ اور پھر یہ جملہ”من کنت مولاہ فعلی مولاہ“ فرمایا توپھر جس طرح پھلا جملہ ولا یت کے لئے ھے ، دوسرے کو بھی اسی طرح ھو نا ضروری ھے تاکہ دونو ں جملہ میں ربط باقی رھے ۔

۲۔ آیة تبلیغ جو مولا ئے کا ئنا ت کو پھنچنوانے سے قبل نازل ھو ئی پیغمبر سے خطاب کرکے فرمایا : اگر آپ نے یہ نہ کیاتوگویا اس کے پیغام کو نھیں پھنچایا،کیا اگر پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) علی (علیہ السلام) سے دوستی کا اعلان نھیں کرتے تو رسالت ناقص رھتی ؟ ۔

۳۔ کیا یہ بات معقول ھے کہ وہ پیغمبر جسے” مَایَنطِقُ عن الھَویٰ“کا خطاب ملا ھو ا س سخت گرمی میں ہزاروں لوگو ں کوروک کر کھے :اے لوگو جس کا میں دوست ھوں علی بھی اس کے دوست ھیں۔ ؟

۴۔ جو آیتیں علی (علیہ السلام) کے تعارف کے بعد نازل ھوئیں جیسے آیہ اکمال ھے۔[22] اور آیہ یاس ھے [23] یہ تمام چیزیں کیا اس بناپر تھیں کہ پیغمبر نے علی کو دوست بنایا تھا۔؟

”اللَّھمَّ عَجّل فَرجہ واجعلنا من اٴعوانہ واٴنصارہ“ (آمین )



[1] -سورہ بقرہ آیة :۲۹

[2] - سورہ نحل آیة :۱۲

[3] - سورہ توبہ آیة ۱۲۸

[4] - سورہ بقرہ آیة: ۱۲۴

[5] - سو رہ لقمان آیة: ۱۳

[6] -سورہ شوری آیة: ۴۲

[7] سورہ فاطر آیة: ۳۲

[8] - سورہ احزاب ۔آیة: ۳۳

[9] - جامع الاصول ج/ص/۱۱۰۔

[10] - الامام الصادق والمذاھب الاربعہ ج،۱ص۸۹۔

[11]- نو ر الثقلین ج ۴، ص ۲۷۱

[12] - سورہ انعام آیة ۱۱۶

[13] - سورہ بقرہ آیة ۱۲۴

[14] -سورہ قصص آیة ۶۸

[15] -سورہ مائدہ آیة: ۵۵

[16] -الاحزاب آیة:۶

[17] - سورہ توبہ آیة:۷۱

[18] - سورہ نساء آیة:۵۹

[19] - سورہ شعراء آیة:۲۱۴

[20] - سورہ مائدہ آیة: ۶۷

[21] - سورہ مائدہ آیة:۳

[22] سورہ مائدہ آیة۳

[23] -سورہ مائدہ آیة ۳

برچسبها: امامت, امامت عامہ, قرآن اور عصمت اما م, عصمت اهل بیت ع اور آیہ تطھیر, امامت خاصہ

برچسب: نویسنده: باران کاشانی تاريخ: شنبه 7 مرداد 1396 ساعت: 22:28

صفحه بندی